محدود وسائل میں مشکل حالات کا مقابلہ کیا:حکومت:سسٹم نہیں چل رہا،سیاستدان مل بیٹھیں:اپوزیشن
14مارچ سے 4اپریل تک پٹرولیم کی قیمتوں کو روکے رکھا، 129ارب کی سبسڈی دی ، دعا ہے حالات معمول پر آ جائیں :وزیر خزانہ نظام بیٹھ چکا ،ہمیں ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار قرار دینا اب بند کرنا ہوگا ،بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی حل نہیں نکلے گا :محمود اچکزئی وزیرِ اعظم کیلئے کوئی نیا طیارہ نہیں خریدا گیا :خواجہ آصف ، ثالثی کردار پر پاک فوج ، حکومت کو کریڈٹ ملنا چاہئے ، قومی اسمبلی میں بحث
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، نامہ نگار ، نیو ز ایجنسیاں)وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اور نگزیب نے کہا کہ مجموعی معیشت کے استحکام ،بہتر مالیاتی نظم و ضبط کی وجہ سے پاکستان نے نہ صرف مشکل حالات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا ،بلکہ محدود وسائل کے باوجود ہم یہاں پہنچے ہیں ، ہدف پرمبنی سبسڈی پروگرام کی پہلی قسط جلد جاری ہوگی،حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے پروگرام پر عمل پیرا ہے ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور حالیہ علاقائی بحران پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بحث کے دوران مفید اور تعمیری تجاویز آئی ہیں، ہمیں بہتری کی امید ہے ، مشکل حالات کے لئے منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے ، مارچ سے لے کر اب تک جو کچھ ہوا ہے اسے حقائق کی نظر سے دیکھنا ضروری ہے ، 14 مارچ سے 4 اپریل تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو روکے رکھا ،اس دوران 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی، یہ سبسڈی کفایت شعاری اور دیگر اقدامات کے ذریعے فراہم کی گئی سبسڈی کے لئے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ،اب ہدف پر مبنی سبسڈی پر عملدرآمد ہو رہا ہے ، موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ڈیزل سے چلنے والی مال برداری کو سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے ،پٹرولیم کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے قائم کمیٹی باریک بینی سے کام کر رہی ہے ، ہماری دعا ہے کہ خطے میں امن آئے اور حالات معمول کے مطابق ہو جائیں ۔
رواں ہفتے 1.4 ارب ڈالر کے یوروبانڈز اوردیگر بین الاقوامی ادائیگی بھی کی جا رہی ہے ، 26 اداروں کو نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ، کوویڈ اور حالیہ تجربات سے سیکھتے ہوئے پاکستان نے سٹرٹیجک ذخائر کی تعمیر پر کام شروع کر دیا ، اس ضمن میں ہم دیگر ممالک سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں ،اس وقت سولر توانائی سے 8,000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے ۔قومی اسمبلی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پربحث منگل کوبھی جاری رہی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا کہ ہماری اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے سسٹم نہیں چل رہا، حالات کا تقا ضا ہے کہ نواز شریف، زرداری اور عمران خان مل کر بیٹھیں ، محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ حالات کا تقا ضا ہے کہ بڑی سیاسی قیادت نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان سمیت سب مل کر بیٹھیں ،ملک کا موجودہ نظام اب بیٹھ چکا ہے ۔ ہمیں ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار قرار دینا اب بند کرنا ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی حل نہیں نکلے گا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو توڑنے میں ناکامی کے بعد اب بات چیت کی طرف آئیں ۔
ارکان سیشن کے دوران چھٹیاں نہ کریں، پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے ،ہمیں کم سے کم جمہوری نکات پر متفق ہو کر قومی حکومت کی طرف بڑھنا ہو گا ، لوگوں کے ساتھ مزید کھلواڑ نہیں کرنا چا ہئے ، بانی پی ٹی آئی کیوں جیل میں بیٹھے ہیں؟ ۔تمام سیاسی جماعتیں مل کر چار پانچ متفقہ نکات تیار کریں اور سب اس ایوان میں متفق ہونے کے بعد مل کر قومی حکومت بنائیں ،ایک پاگل آدمی پوری دنیا کو خطرے میں ڈال رہا ہے ،مشترکہ سوچ اور نکات سے ہی ملک کو مشکلات سے نکالا جا سکتا ہے ۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ پٹرول کی قیمت کس طرح بڑھائی گئی ،یہ حکومت عوام کے ووٹوں سے نہیں آئی، مشکل حالات صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہیں ۔ بحث کے دوران اراکین نے موجودہ بحران کے دوران معاشی طورپرکمزورطبقات کوزیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ،مسلم لیگ (ن) کے شیخ آفتاب نے کہاکہ امریکا اور اسرائیل نے پوری دنیا کے امن کومتاثرکیا ،موجودہ حکومت کویہ کریڈٹ دینا چاہئے کہ بحران کے خاتمہ اورصلح کی ذمہ داریاں پاکستان کودی گئیں ، پوری دنیامیں آج پاکستان ایک ثالث کاکرداراداکررہاہے ، پوری فوج اورحکومت کواس کا کریڈٹ ملنا چاہئے ، ثمینہ خالدگھرکی نے کہاکہ نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیاکومشکل صورتحال کاسامنا ہے ، پاکستان نے ایران اورامریکا کے ساتھ معاملات کو جس اندازمیں چلائے ہیں وہ قابل تعریف ہے ۔
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ وقتی ریلیف کی بجائے ہمیں مستقل حل کی طرف جانا ہوگا ، ایم کیو ایم کے رکن محمد جواد حنیف خان نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے خطے کی صورتحال دن بدن گھمبیر ہوتی جارہی ہے ۔ ،انجینئر حمید حسین نے کہا کہ تیراہ آپریشن کی وجہ سے متاثرین کو شدید مشکلات ہیں،یہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کو اپنے علاقوں میں واپس لایا جائے جس پر سپیکر نے ہدایت کی کہ وہ اس کی تفصیلات فراہم کریں، آئی جی خیبر پختونخوا سے بات کرکے تفصیلات لیتے ہیں۔ رکن عالیہ کامران کے رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران ٹیکس ریونیو میں کمی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ معاشی مشکلات کے باوجود ٹیکس محصولات کے بنیادی اہداف حاصل کرلیں گے ، وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کیلئے کوئی نیا طیارہ نہیں خریدا گیا، پرانے طیارے کی مرمت اور اپ گریڈیشن کی گئی ہے ، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کے پاس جہاز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف پنجاب کی وزیرِ اعلی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، اجلاس کے دوران نوید قمر نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی اور سولر پینلز پر ٹیکس کے حوالے سے توجہ دلا نوٹس پیش کیا، جس پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کو ایک نازک توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے ۔ ماضی کے معاہدوں کے باعث حکومت کے ہاتھ بندھے ہیں ، حکومت 35 سال پہلے کئے گئے معاہدوں کی پابند ہے ، بہتری کے راستے نکالنے کی کوشش جارہی ہے ، بعدازاں سپیکرایاز صادق نے اجلاس آج شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا۔