مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ : پاکستان سے لڑاکا طیارے سعودی عرب پہنچ گئے
پاک فضائیہ کے طیاروں کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور آپریشنل تیاری کی سطح کو مزید بہتر بنانا ہے :سعودی وزارت دفاع سعودی عرب اور قطر پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کریں گے :ترک میڈیا ، سعودی وزیر خزانہ کا دورہ پاکستان کی معاشی سپورٹ کے اظہار کے لئے تھا :عالمی میڈیا
ریاض (نیوز ایجنسیاں )سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ ظہران میں کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے ،سعودی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق یہ آمد دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کا حصہ ہے ۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی دستے میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور آپریشنل تیاری کی سطح کو مزید بہتر بنانا ہے۔
دوسری جانب اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرِ خزانہ کی اسلام آباد میں موجودگی کو پاکستان کے لیے ‘معاشی سپورٹ ’ کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، یہ دورہ اس اعلان کے چند دن بعد ہوا ہے جس میں پاکستان نے کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کے قرضے واپس کرے گا ۔وزیرِ خزانہ محمد الجدان نے یہ دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جب اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے ، جن میں وہ خود شریک نہیں ہیں۔ان کا یہ دورہ اس بات کی تازہ علامت ہے کہ خلیجی خطے میں نئی صف بندیاں ابھر رہی ہیں ،ذرائع کے مطابق سعودی وزیر خزانہ پاکستان کے لیے معاشی حمایت کے اظہار کے طور پر یہاں آئے ہیں۔
اسلام آباد ( نیوز مانیٹرنگ )سعودی عرب اور قطر پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کریں گے ، جس سے اسلام آباد کو کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور جون تک بیرونی ادائیگیوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، یہ بات پاکستانی سرکاری ذرائع نے ہفتے کے روز ترک خبر رساں ادارے انادولو کو بتائی ،یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد کو ماہ کے آخر تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے ۔ریاض نے پاکستان کو بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے منسلک اخراجات کے تناظر میں اپنی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدان نے جمعہ کی شب اسلام آباد میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ جس میں پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے ۔پاکستان نے اضافی مالی امداد کی درخواست کی ہے ، جس میں موجودہ نقد ذخائر میں توسیع اور تیل کی مالی سہولت میں اضافہ شامل ہے، جو اس ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے ۔اگرچہ ملاقات کے دوران کسی باضابطہ معاہدہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق مالی معاونت سے متعلق بات چیت دونوں ممالک کی وزارتِ خزانہ کے درمیان پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ذرائع نے انادولو کو بتایا کہ سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد کی یقین دہانی کرائی ہے، جس سے اسلام آباد کو کمزور زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے گی۔