قرض واپسی موثر بنانے کیلئے ترمیمی بل تیار، بینکوں کو اختیارات تفویض
نئے قانون کے تحت نادہندگان کو نوٹس کے بعد رہن جائیداد قبضہ دلوانے کیلئے ضلعی انتظامیہ اور اتھارٹی بینکوں معاونت کریگی بینکنگ کورٹس مخصوص حالات میں حکم امتناع جاری کرسکیں گی،درخواست گزار کو ملکیت ثبوت یا واجب رقم جمع کرانا ہوگی
اسلام آباد (ایس ایم زمان) وفاقی وزارت خزانہ نے فنانشل انسٹی ٹیوشن ریکوری آف فنانسز (ترمیمی) بل 2026 تیار کر لیا جس کا مقصد بینکوں اور مالیاتی اداروں کیلئے قرضوں کی وصولی کا نظام مزید مؤثر بنانا ہے ۔نئے قانون کے تحت بینکوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ نادہندگان کو تحریری نوٹس جاری کرنے کے بعد رہن رکھی گئی جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا حکومت کی نامزد کردہ اتھارٹی سے رجوع کرسکیں۔ ضلعی انتظامیہ جائیداد کا قبضہ دلوانے اور ضروری دستاویزات کی فراہمی میں بینکوں کی معاونت کرے گی جبکہ مزاحمت کی صورت میں رکاوٹ ڈالنے والے افراد کو ہٹانے کیلئے قانونی طاقت بھی استعمال کی جاسکے گی۔
بل کے مطابق جائیداد کی فروخت یا نیلامی کے عمل کو شفاف بنانے کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ بینکنگ کورٹس کو مخصوص حالات میں حکم امتناع جاری کرنے کا اختیار ہوگا تاہم اس کیلئے درخواست گزار کو جائیداد کی ملکیت کے قابلِ قبول شواہد پیش کرنا یا واجب الادا رقم بینک میں جمع کرانا لازم ہوگا۔ترمیمی قانون میں نیک نیتی سے کیے گئے اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کی حد بڑھا کر پچیس ہزار سے پچاس ہزار روپے کردی گئی ہے ۔ اس ترمیم کا مقصد قرض دہندگان اور قرض لینے والوں کے مفادات میں توازن پیدا کرنا، غیر فعال قرضوں میں کمی لانا اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ مالیاتی نظام مزید مستحکم ہوسکے۔