بری امام:غیر قانونی تعمیرات کیخلاف آپریشن،مظاہرین کا پتھراؤ،2سرکاری گاڑیاں نذر آتش
سی ڈی اے کی کارروائی میں انتظامیہ اور لوگ آمنے سامنے ، احتجاج شدت اختیار کرنے پر اضافی نفری طلب، حالات کشیدہ سید پور ویلیج میں مکانات گرانے کے حکم امتناع میں توسیع، آئندہ سماعت پر دلائل طلب، وکلا کو تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایت
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر، اپنے نامہ نگار سے ) سی ڈی اے کے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اسلام آباد کے علاقہ نور پور شاہاں بری امام میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن میں مشتعل مظاہرین نے سی ڈی اے کی دو سرکاری گاڑیاں نذر آتش کر دیں۔ آپریشن کے دوران انتظامیہ اور لوگ آمنے سامنے آ گئے ، مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس پر انتظامیہ کو آنسو گیس استعمال کرنا پڑی۔ سی ڈی اے نے پو لیس کی مزید نفری طلب کر لی۔ سی ڈی اے کی گاڑیاں نذر آتش کرنے کے بعد مظاہرین کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا بغیر نوٹس تجاوزات کی کارروائی کا سامنا ہے ۔ علاقے میں کشیدگی ہے اور انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کر دیئے ۔ سی ڈی اے نے نقصانات سے متعلق باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے سید پور ویلیج میں مکانات مسمار کرنے سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فریقین سے دلائل طلب کرلیے ۔ 128 سے زائد افراد کی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے کہا آئندہ سماعت پر تمام وکلاء تیاری کے ساتھ آئیں، سب کو سن کر میرٹ پر فیصلہ کریں گے ۔ جسٹس انعام امین منہاس نے رضوان عباسی ایڈووکیٹ سے کہا اگر بعد میں انہیں بیدخل کیا جاتا ہے تو کیا میکنزم ہو گا، وہ بھی دیکھ لیجیے گا، سماعت 21 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔