سمگلنگ، ٹیکس چوری، محصولات میں کمی پر قائمہ کمیٹی کی تشویش

 سمگلنگ، ٹیکس چوری، محصولات میں کمی پر قائمہ کمیٹی کی تشویش

ٹیکس فری علاقوں والی تمام کمپنیوں کی مکمل تفصیلات میں پیش کی جائیں ،ہدایت ٹیکس چوری سے ملکی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ، ذیلی کمیٹی داخلہ و انسداد منشیات

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ،خصوصی رپورٹر )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی نے سمگلنگ، ٹیکس چوری اور قومی محصولات میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کے بجائے ان علاقوں میں ٹیکس چوری کو فروغ مل رہا جس کے باعث ملکی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے ، کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ، اجلاس میں اہم قومی معاملات پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا ، اجلاس میں ایف آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو ایجنڈا نکات پر بریفنگ دی ، انہوں نے آگاہ کیا کہ ذیلی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں چھوٹا لاہور سے متعلق انکوائری رپورٹ تیار کر کے جمع کرا دی گئی ، سیف اللہ ابڑو نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کسٹمز حکام کی جانب سے 22 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا پٹرول ضبط کیا گیا۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ایندھن کہاں منتقل کیا جا رہا تھا اس ایندھن کی ترسیل ،منزل کے حوالے سے جامع رپورٹ بھی طلب کر لی۔ کنوینر ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے چیف سیکرٹری سے اس حوالے سے مکمل معلومات حاصل کی جائیں اور باضابطہ نوٹس جاری کیا جائے ۔ذیلی کمیٹی کے رکن سینیٹر عمر فاروق نے بلوچستان میں پٹرولیم سمگلنگ کی روک تھام کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ میں ڈیزل 240 روپے فی لٹر جبکہ دیہی علاقوں میں 210 روپے فی لٹر فروخت ہو رہا ، کنو ینر ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ ٹیکس فری علاقوں میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں