چائلڈ میرج بل 2026 پر حکومتی صفوں میں اختلافات
چیئرمین قائمہ کمیٹی پیر اشرف نے قانون سازی کیخلاف اختلافی نوٹ جمع کرا دیا مجوزہ قانون آئینِ پاکستان کی متعدد شقوں سے متصادم ،فوری واپس لیا جائے :متن
لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ میں منظور کردہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 پر حکومتی صفوں میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے جہاں کمیٹی کے چیئرمین پیر اشرف رسول نے اپنی ہی حکومت کی قانون سازی کے خلاف اختلافی نوٹ جمع کرا دیا ۔ پیر اشرف رسول نے اپنے نوٹ میں مطالبہ کیا کہ مذکورہ بل فوری طور پر واپس لیا جائے ، مجوزہ قانون آئینِ پاکستان کی متعدد شقوں سے متصادم ہے ۔ اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 8 کسی بھی قانون کو بنیادی حقوق کے منافی ہونے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ آرٹیکل 8(2)ایسے قوانین کی ممانعت کرتا ہے جو بنیادی حقوق سے ٹکراتے ہوں۔
آرٹیکل 20کے تحت ہر شہری کو مذہبی آزادی اوراپنے عقائد کے مطابق شادی کا حق حاصل ہے ، اس لئے بل موجودہ شکل میں آئینی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ کئی اراکین تحفظات رکھتے ہیں اور اکثریتی رائے بھی اس کی واپسی کے حق میں ہے ۔ واضح رہے مذکورہ بل ایک روز قبل قائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ پنجاب اسمبلی نے منظور کیا تھا اور پھر اگلے دن پیر اشرف رسول کا اختلافی نوٹ اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا گیا جو بل کے ساتھ ایوان میں پیش کیا جائے گا جہاں نوٹ کو منظور یا مسترد کرنے کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہو گا۔