سموگ تدارک کیس:عملدرآمد رپورٹس 23 اپریل تک طلب
شیرانوالہ گیٹ و ٹیکسالی گیٹ منصوبوں سے متعلق حکم امتناعی میں توسیع کر دی گئی شہریوں کو بلاوجہ روکنا غیرقانونی، لاہورہائیکورٹ نے سینئر ٹریفک افسر کو طلب کرلیا
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران مختلف سرکاری محکموں سے عملدرآمد رپورٹس 23 اپریل تک طلب کر لیں اور شیرانوالہ گیٹ و ٹیکسالی گیٹ منصوبوں سے متعلق حکم امتناعی میں توسیع کر دی۔عدالت نے ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو غیر ضروری طور پر روکنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ یہ عمل غیرقانونی ہے اور اس سے ٹریفک میں خلل، حادثات کے خدشات اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے ،عدالت نے آئندہ سماعت پر ٹریفک پولیس کے سینئر افسر کو طلب کر لیا۔جوڈیشل واٹر کمیشن نے رپورٹ میں بتایا کہ خوشاب میں سڑک کی توسیع کے دوران 10 سے 11 ہزار درخت کاٹنے کا خدشہ ہے تاہم مداخلت سے بڑی تعداد میں درخت بچائے جا سکتے ہیں۔
عدالت نے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ سے این او سی طلب کرتے ہوئے کارروائی کا عندیہ دیا۔واسا نے زیر زمین پانی کی سطح سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ عدالتی احکامات کے باعث کمی کی رفتار محدود ہوئی ہے اور 10 ہزار واٹر میٹرز کی تنصیب جاری ہے ۔ عدالت نے پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے مزید مو ثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ماحولیاتی کمیشن نے شیخوپورہ میں بھٹوں کی انسپکشن رپورٹ پیش کی جس کے مطابق زیادہ تر بھٹے قواعد کے مطابق چل رہے ہیں، جبکہ خلاف ورزی پر جرمانے کیے جا رہے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سموگ سے قبل سخت نگرانی یقینی بنائی جائے ۔عدالت نے پی ایچ اے کو درختوں کی منتقلی کے قوانین پر عملدرآمد اور ریونیو بڑھانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت بھی کی۔