روپے کی حقیقی قدر 251، مارکیٹ ریٹ 278.96 ،مہنگائی برقرار
قدر میں فرق کے باعث عوام کو 5.6 فیصد اضافی مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ،ماہرین
اسلام آباد (ایس ایم زمان) ماہرینِ معیشت کے مطابق پاکستانی روپے کی حقیقی قدر اس وقت تقریباً 251 روپے فی امریکی ڈالر ہے جبکہ موجودہ مارکیٹ ریٹ 278.96 روپے ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روپیہ اب بھی اپنی اصل قدر سے خاصا کم سطح پر ہے ۔ روپے کی قدر میں اس فرق کے باعث پاکستانی عوام کو تقریباً 5.6 فیصد اضافی مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فرق کو درست کر لیا جائے تو پالیسی ریٹ میں 4 سے 5 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے جس سے ملک کے لیے 4.2 فیصد شرحِ نمو کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔
معاشی صورتحال میں بہتری کی ایک مثبت علامت مارچ 2026 میں سامنے آنے والا 1.07 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے جس کے نتیجے میں مالی سال کے پہلے نو ماہ کا مجموعی سرپلس 8 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس بہتری کی بنیادی وجوہات میں ترسیلاتِ زر میں 530 ملین ڈالر کا اضافہ اور درآمدی بل میں 263 ملین ڈالر کی کمی شامل ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خلیجی تنازع کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمت فروری کے 64 ڈالر کے مقابلے میں مارچ میں 95 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جس سے ملک پر 233 ملین ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا تاہم خوراک، دھاتوں اور ٹیکسٹائل کی درآمدات میں نمایاں کمی نے اس مالی دباؤ کو متوازن کرنے میں مدد فراہم کی۔مجموعی طور پر پاکستانی معیشت ترسیلاتِ زر اور کنٹرولڈ درآمدات کی بدولت قلیل مدت کے لیے لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے تاہم روپے کی حقیقی اور مارکیٹ قدر میں فرق بدستور مہنگائی کا سبب بنا ہوا ہے۔