ایران نے آبنائے ہر مز کھول دی،شکریہ پاکستان ،،ٹرمپ:مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تیاری،جس کے بعد60دن میں مکمل معاہدہ ممکن:ذرائع

ایران  نے  آبنائے  ہر مز  کھول  دی،شکریہ  پاکستان ،،ٹرمپ:مفاہمتی  یادداشت  پر  دستخط  کی  تیاری،جس  کے  بعد60دن  میں  مکمل  معاہدہ  ممکن:ذرائع

شہبازشریف ،فیلڈمارشل بہت شاندار،ایران کبھی ہرمز بند نہیں کریگا،بارودی سرنگیں ہٹانے میں مدد کررہے ،جوہری معاہدہ کیلئے رقم کا لین دین نہیں ہوگا،ناکہ بندی برقرار،نیٹو دور رہے ،اسرائیل لبنان پر بمباری نہیں کریگا:امریکی صدر عراقچی کے تجارتی جہازوں کیلئے آبنائے کھولنے کے اعلان پر تیل کی قیمتیں 11فیصد گر گئیں،سٹاک مارکیٹوں میں تیزی،زیرغور منصوبے کے تحت افزودہ یورینیم کی حوالگی کے بدلے 20ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری ہونگے :امریکی میڈیا

واشنگٹن،اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کیلئے کھلی ہے ۔یہ جنگ بندی اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان 10 دن کیلئے طے پائی ہے ، جس میں امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹس میں ثالثی کرنے والے ملک پاکستان اور خلیجی اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا، جبکہ نیٹو کو سختی سے دور رہنے کا کہا اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی میں مدد کی پیشکش مسترد کر دی۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کیلئے کھلی رہے گی۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ جہازوں کی آمد و رفت مخصوص راستوں کے ذریعے ہوگی، جنہیں ایران نے محفوظ قرار دیا ہے ، اور ان میں بحری جنگی جہاز شامل نہیں ہوں گے ۔تیل کی قیمتیں عباس عراقچی کے بیان کے بعد مزید 11 فیصد تک گر گئیں۔دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں جو پہلے ہی ریکارڈ سطح کے قریب تھیں اس خبر کے بعد مزید اوپر چلی گئیں۔

بڑی شپنگ کمپنیوں نے اس اعلان پر محتاط ردِعمل دیا اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے ، جہاں  جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے ۔عباس عراقچی کے بیان کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے مکمل طور پر کھلی ہے اور آمد و رفت کیلئے تیار ہے ۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں پر امریکی فوجی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔ یہ ناکہ بندی اس وقت اعلان کی گئی تھی جب اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے ۔صدر ٹرمپ نے کہا یہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل طور پر طے نہیں پا جاتا، جو ان کے مطابق جلد ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر نکات پر بات ہو چکی ہے ۔دوسری جانب ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کچھ اختلافات باقی ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے ۔رائٹرز کے مطابق ادھر پسِ پردہ سفارتکاری میں کچھ پیشرفت بھی سامنے آئی ہے ، جبکہ تکنیکی معاملات بعد میں طے کیے جائیں گے ۔ ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک اصولی طور پر متفق ہو رہے ہیں اور جلد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو سکتے ہیں، جس کے بعد 60 دن میں مکمل معاہدہ ممکن ہے ۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے کے تحت ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے ، تاہم اس کا کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا،اہم مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام کا ہے ۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران 20 سال کیلئے جوہری سرگرمیاں روک دے ، جبکہ ایران 3 سے 5 سال کی تجویز دے رہا ہے ۔ ایران نے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو ایران کا تمام جوہری مواد حاصل ہو جائے گا۔ جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا میزان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی بات چیت یا معاہدہ نہیں ہوا۔اس دوران اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی جو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی روکنے کیلئے کی گئی جمعہ کو زیادہ تر برقرار رہی، اگرچہ کچھ خلاف ورزیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز اور تہران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی پیشرفت کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پر اسے دنیا کیلئے ایک عظیم اور شاندار دن قرار دیا ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرے گا اور یہ راستہ اب دنیا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال نہیں ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکی مدد سے آبنائے میں موجود بارودی سرنگیں ہٹا رہا ہے ۔

جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ممکنہ جوہری معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی رقم کا لین دین نہیں ہوگا۔ یہ بیان اس رپورٹ کے بعد آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدے پر بات ہو رہی ہے ۔اس سے قبل خبر رساں ادارے Axios نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ایسے منصوبے پر بات کر رہے ہیں جس کے تحت امریکا ایران کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، بدلے میں ایران اپنی افزودہ یورینیم کی موجودہ مقدار امریکا کے حوالے کرے گا ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسرائیل اب لبنان پر مزید بمباری نہیں کرے گا، امریکا کی جانب سے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا ہے بس بہت ہو گیا، ہم لبنان کو دوبارہ عظیم بنائیں گے ۔ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران مذاکرات میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا بھی بہت جرات مندانہ مدد پر شکریہ ادا کیا ۔ نیٹو کو امریکی صدر نے ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، کیونکہ نیٹو اتحاد نے ایران جنگ میں شامل ہونے یا آبنائے ہرمز میں مشن میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا ۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب جب کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے ، مجھے نیٹو کی طرف سے فون آیا کہ کیا ہماری مدد کی ضرورت ہے ؟ ،میں نے انہیں کہہ دیا کہ دور رہو ، اب مدد کی کیا ضرورت ہے ؟،سوائے اس کے کہ تم صرف اپنے جہاز تیل سے لاد کر لے جانا چاہتے ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں