5سال میں درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹیز ختم ، نئی آٹو پالیسی تیار: آئی ایم ایف سے منظوری لی جائیگی
پانچ برس میں کسٹمز ڈیوٹی کم کر کے 15 فیصد تک لانے ، سیفٹی اسٹینڈرڈز، لائسنسنگ اور ری کال نظام سخت کرنے کی تجویز مالی سال 2027کے بعد 7سال تک پرانی گاڑی درآمد کرنیکی اجازت، نئی پالیسی رواں ماہ آئی ایم ایف سے شیئر کی جائیگی
اسلام آباد (مدثر علی رانا) حکومت نئی آٹو سیکٹر پالیسی رواں ماہ حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے آئی ایم ایف کو بھجوائے گی، جبکہ آئندہ ماہ اسے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق چار برسوں میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور پانچ برسوں میں ریگولیٹری ڈیوٹیز کے خاتمے کے ساتھ درآمدی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی مرحلہ وار کم کر کے 15 فیصد تک لانے کی تجویز ہے ۔ذرائع کے مطابق آٹو سیکٹر پالیسی تیاری کے آخری مراحل میں ہے اور اپریل 2026 کے اختتام تک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ اس پالیسی کے تحت ٹیرف میں مجموعی کمی لا کر درآمدی نظام کو زیادہ شفاف اور مسابقتی بنایا جائے گا۔ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو 2030 تک مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2027 کے بعد سات سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہوگی، جبکہ اس سے قبل پانچ سال پرانی گاڑیوں پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد ہے ۔ نئی پالیسی کے تحت اضافی ڈیوٹی میں ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی اور مقررہ مدت کے بعد یہ مکمل ختم ہو جائے گی۔ای ایف ایف پروگرام کے تحت حکومت نے موٹر وہیکل ڈیولپمنٹ ایکٹ جلد پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ اس قانون کے تحت انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کو ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کے نفاذ کے اختیارات حاصل ہوں گے ۔ توقع ہے کہ یہ بل جون 2026 تک منظور ہو جائے گا۔حکومت نے گفٹ اسکیم اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد کی شرائط مزید سخت کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے تاکہ ان اسکیموں کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
نئی پالیسی کے تحت مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں میں 60 سے زائد سیفٹی اسٹینڈرڈز پر عملدرآمد لازم ہوگا، جبکہ اس وقت صرف 17 معیارات نافذ ہیں۔ مزید 43 سے زائد نئے سیفٹی اسٹینڈرڈز بھی شامل کیے جائیں گے ۔دستاویز کے مطابق پاکستان آٹو موٹو انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے جو مقامی پارٹس کے معیار کی جانچ کرے گا۔ غیر تصدیق شدہ نئی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی ہوگی جبکہ ایکسیڈنٹل (ٹائپ ڈی) گاڑیوں کی درآمد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پالیسی کے تحت ہر مینوفیکچرر کو گاڑیوں کی تیاری کے لیے لائسنس حاصل کرنا ہوگا اور معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں کمپنیوں کو گاڑیاں واپس (ری کال) کرنا ہوں گی۔ خلاف ورزی پر دو سے تین سال تک قید اور 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ لائسنس منسوخ کرنے کی شق بھی شامل ہے ۔حکام کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا مقصد نہ صرف صارفین کو بہتر اور محفوظ گاڑیاں فراہم کرنا ہے بلکہ آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھا کر قیمتوں میں کمی اور معیار میں بہتری لانا بھی ہے۔