6 ارب 62 کروڑ روپے کا منی لانڈرنگ سکینڈل بے نقاب

6 ارب 62 کروڑ روپے کا منی لانڈرنگ سکینڈل بے نقاب

نجی کمپنی کی رقم بے نامی اکاؤنٹس میں منتقل، جعلی دستخطوں سے لین دین کمپنی ڈائریکٹرز سمیت 7 افراد نامزد، 14 کروڑ کی منی لانڈرنگ میں ملزم گرفتار

لاہور (اپنے کامرس رپورٹر سے ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) نے بے نامی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے دو بڑے سکینڈلز بے نقاب کر دیے ۔تفصیلات کے مطابق نجی کمپنی کے 6 ارب 62 کروڑ روپے بے نامی اکاؤنٹس میں منتقل کیے جانے کا انکشاف ہونے پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور نے مقدمہ درج کر لیا۔ حکام کے مطابق سیلز کی رقوم کمپنی کے ڈکلیئرڈ اکاؤنٹس کے بجائے ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے بوگس اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں، جہاں سے اربوں روپے نقد کی صورت میں نکلوائے گئے ۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اکاؤنٹ ہولڈرز کے دستخط درست تھے تاہم لین دین جعلی دستخطوں کے ذریعے کیا گیا۔ بینک افسر مظہر اعجاز نے اپنے ذاتی پتے اور نمبر پر اکاؤنٹس کھلوائے اور چیکس خود جمع کرواتا رہا۔ ملزمان نے جعلی  بینکنگ دستاویزات کے ذریعے اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کیں۔

مزید بتایا گیا کہ عبداللہ مقصود کے اکاؤنٹ سے 9 کروڑ 20 لاکھ روپے کے پے آرڈرز جاری کیے گئے جبکہ فرنٹ مین عمیر خان کے ذریعے مختلف اکاؤنٹس سے بھاری رقوم نکلوائی گئیں۔ مقدمے میں کمپنی کے ڈائریکٹرز سمیت 7 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے ۔دوسری کارروائی میں ایف آئی اے لاہور کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل نے کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ملزم راشد علی کو گرفتار کر لیا۔ ملزم 14 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث پایا گیا، جس نے مختلف بینکوں میں متعدد اکاؤنٹس اور اسٹرکچرڈ ٹرانزیکشنز کے ذریعے رقوم منتقل کیں اور غیر قانونی آمدن کو کاروباری آمدن ظاہر کیا۔حکام کے مطابق ملزم نے غیر قانونی ذرائع سے جائیدادیں اور دیگر اثاثے بھی بنائے ، اسے گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں