بڑھتی ایندھن قیمتیں،پابندیاں، اسلام آباد میں کاروبار تباہ

 بڑھتی ایندھن قیمتیں،پابندیاں، اسلام آباد میں کاروبار تباہ

گاہک غائب ،ملازمین کی تنخواہوں کیلئے پیسے نہیں ،ایسا کب تک چلے گا؟:دکاندار یہی اصل بحران ، اثرات صنعتوں اور گھروں پر پڑ رہے ہیں:اقتصادی تجزیہ کار

اسلام آباد (اے ایف پی)ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مختلف پابندیوں کے باعث وفاقی دارالحکومت میں کاروبار شدید متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے تاجر پریشانی کا شکار ہیں ۔بیڈنگ سٹور کے مالک شیخ ندیم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا امریکا اور اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ، بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں اور حکومت کی بجلی بچانے کیلئے دکانوں کے اوقات کار پر پابندیاں، کاروباری مالکان کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔ ندیم نے اے ایف پی کو بتایا ہم اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتے ، ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں۔ ندیم نے کہا گزشتہ سال سے میں اپنی جیب سے خرچ کر رہا ہوں، یہ کب تک چلے گا؟ ۔کچھ دکانداروں کا کہناتھا بحران  پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

پٹرول کی قیمتیں 14 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں اور حکومت نے قدرتی گیس بچانے کیلئے وسیع پیمانے پر لوڈ شیڈنگ کا حکم دیا ہے ۔ اقتصادی تجزیہ کار خرم حسین کے مطابق یہی اصل بحران ہے جس کے اثرات صنعتوں اور گھروں پر پڑ رہے ہیں۔ جوتوں کی دکان کے ملازم سلیم نے کہا ہمارا ملک خوشحالی کی طرف جا رہا ہے لیکن ہم اسے نہیں دیکھتے ۔ ایک پاکستانی اقتصادی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا یہ حکومت تقریباً تین سال سے برسر اقتدار ہے اور استحکام کے سوا ان کے پاس دکھانے کیلئے کچھ نہیں۔ تین سال بعد سب یہ پوچھ رہے ہیں، ترقی کہاں سے آئے گی؟۔ اہلکار نے کہا ملک کے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ٹیکسٹائل سیکٹر توانائی کے طویل صدمے کا پہلا شکار ہوگا اور درمیانے درجے کی فیکٹریاں اور چھوٹے کاروبار جیسے ندیم کی بیڈنگ دکان ممکنہ طور پر اگلے ہوں گے۔

جنگ نے پاکستانی گھریلو معیشت پر بھی سنگین اثرات ڈالے ہیں۔ ملک کو آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی کھاد کی قلت سے بچایا گیا ہے کیونکہ زیادہ تر کھاد ملکی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے ۔ تاہم یہ شعبہ درآمد شدہ قدرتی گیس پر منحصر ہے ۔ حکومت نے ابھی تک فراہمی میں کمی نہیں کی لیکن جیسا کہ درآمدات مہنگی ہوں گی خوراک کی قیمتوں پر اثر پڑے گا۔ اقتصادی اہلکار نے کہا خوراک کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ جب گیس نہیں ہوگی تو کھاد بھی نہیں ہوگی۔ شہری خرم حسین نے کہا کھاد کی قیمتیں قابو میں رہ سکتی ہیں لیکن نقل و حمل کی بڑھتی لاگت کی وجہ سے خوراک مہنگی ہوگی۔ معاشی غیر یقینی صورتحال سے پریشان محمد احسن نے کہا اگر یہ صورتحال دو یا چار ماہ اور جاری رہی تو ہمارا سارا کاروبار ختم ہو جائے گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں