معاشی دباؤ بڑھ سکتا، وزیراعظم کے خدشات خطرے کی گھنٹی

معاشی دباؤ بڑھ سکتا، وزیراعظم کے خدشات خطرے کی گھنٹی

حکومت خود ذہنی طور پر تیار، بیانات کے ذریعے عوام کو بھی تیار کیا جا رہا ہے

(تجزیہ: سلمان غنی )

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے کابینہ اجلاس میں امریکہ۔ایران کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات کو محض رسمی بیان قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ اندرونی معاشی صورتحال کی سنجیدہ عکاسی ہے ۔ وزیراعظم کے مطابق جنگ کے باعث پاکستان کا درآمدی بل 50 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا جبکہ 3 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی کی گئی۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جنگی حالات کے اثرات سب ممالک پر پڑتے ہیں، تاہم ترقی پذیر معیشتیں خصوصاً پاکستان جیسے ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ابتدا میں حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے گریز کیا مگر بعد ازاں اسے نظرثانی کرنا پڑی، اور اب قیمتیں تقریباً 400 روپے فی لٹر کے قریب پہنچ چکی ہیں، جو عوام کیلئے بڑا چیلنج بن چکا ہے ۔حکومتی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں معاشی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے اور وزیر اعظم کے خدشات خطرے کی گھنٹی ہیں ، حکومت خود کو ذہنی طور پر اس کیلئے تیار کر رہی ہے ، جبکہ بیانات کے ذریعے عوام کو بھی ممکنہ حالات کیلئے تیار کیا جا رہا ہے ۔ ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی شرح 13.90 فیصد تک پہنچ چکی ہے ، جس میں بجلی اور پٹرولیم قیمتوں کا بڑا کردار ہے ۔رپورٹس کے مطابق پاکستان غذائی دباؤ کا شکار ممالک میں شامل ہوتا جا رہا ہے ، جبکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی کشیدگی کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آسکتا ہے۔

خلیجی ممالک میں معاشی سست روی کے باعث پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے بیانات دراصل آنے والے سخت فیصلوں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں، جن میں بجلی، گیس اور پٹرول مزید مہنگے ہونے کا امکان شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی شرائط بھی پاکستان کیلئے بڑا دباؤ بنی ہوئی ہیں، جس کے باعث سبسڈی دینا یا ٹیکس پالیسی میں بڑی نرمی ممکن نہیں۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل چیلنج پالیسی سازی نہیں بلکہ اس پر مؤثر عملدرآمد ہے ۔ اگر حکومت گورننس کو بہتر بنائے ، کرپشن پر قابو پائے اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری لائے تو معیشت کو سنبھالا دیا جا سکتا ہے ، بصورت دیگر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ داخلی استحکام کیلئے خطرہ بن سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں