امریکا نے14نئی ایرانی تجاویز کا جواب دیدیا:ٹرمپ کا آبنائے ہرمز آج سے کھولنے کا اعلان

امریکا نے14نئی ایرانی تجاویز کا جواب دیدیا:ٹرمپ کا آبنائے ہرمز آج سے کھولنے  کا اعلان

دنیا کے کچھ ممالک نے جہاز نکالنے کیلئے مدد مانگی ،پراجیکٹ فریڈم میں آبنائے ہرمز سے جہاز نکالیں گے ،ایران کیساتھ مثبت مذاکرات جاری ،مداخلت پر سخت جواب دیاجائیگا:امریکی صدر تجاویز پرامریکی جواب کا جائزہ لے رہے :ایرانی وزارت خارجہ ،امریکا کے پاس دو ہی آپشن ،بری ڈیل یا ناممکن ملٹری آپریشن:پاسداران ، دنیا ٹرمپ کے قزاقی والے بیان کا نوٹس لے :اسماعیل بقائی

تہران ،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)امریکا نے ایران جنگ کے مکمل خاتمے کیلئے دی گئی 14نئی تجاویز کا جواب دے دیا جس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیااوراسے پراجیکٹ فریڈم کا نام دیاہے ،ان کا کہناتھاکہ دنیا کے کچھ ممالک نے ہم سے اپنے جہاز نکالنے کیلئے مدد مانگی تھی ۔ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کی 14 نکاتی تجاویز کا جواب دیدیا ہے جس کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ایران نے امریکاکی 9 نکاتی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن تک پہنچا یا تھا، جس میں بنیادی زور جنگ کے مکمل خاتمے پر دیا گیا جبکہ پاسداران انقلاب کاکہناتھاکہ امریکا کے پاس دوہی آپشن ہیں کہ وہ ناممکن ملٹری آپریشن کرے یا بری ڈیل کرلے ۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت آج سے بحال کرنے  کا اعلان کیاہے ۔ان کا سوشل میڈیاپیغام میں کہناتھاکہ امریکا پیر کی صبح آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرے گا، یہ ان ممالک کے جہاز ہیں جو مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع میں شامل نہیں،متعدد ممالک نے اپنے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کیلئے امریکا سے مدد کی درخواست کی تھی ،میں نے اپنے نمائندوں سے کہا کہ ان ممالک کو بتادیں کہ ان کے پھنسے جہاز اور عملے کو آبنائے ہرمز سے نکالنے کی بہترین کوشش کریں گے ۔ٹرمپ نے غیر جانبدار ممالک کے جہازوں اور عملے کو محفوظ نکالنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات جاری ہیں اور واضح کیا کہ یہ اقدام انسانی ہمدردی کے تحت کیا جا رہا ہے تاہم کسی بھی مداخلت پر سخت جواب دیا جائے گا۔پراجیکٹ فریڈم کا مقصد ان ممالک کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے جو علاقائی کشیدگی میں شامل نہیں۔

امریکی نمائندوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جہازوں اور عملے کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے مربوط اقدامات کریں ۔قبل ازیں امریکا کی طرف سے ایران کی جنگ کے مکمل خاتمے کیلئے 14تجاویز کا جواب آنے پرترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھاکہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کی 14 نکاتی تجاویز کا جواب دیدیا ہے ، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔انہوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایران کی طرف سے تجاویز اضافی تفصیلات فراہم کئے بغیر صرف جنگ کے خاتمے کو مدنظر رکھ کر دی گئی تھیں، جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکا،اسرائیل کی جارحیت کا خاتمہ ہے ۔جوہری معاملہ 14 نکاتی تجاویز میں شامل نہیں تھا اور بعض میڈیا کے اداروں کی جانب سے اس حوالے سے جو رپورٹ کیا گیا وہ ان کا تصوراتی بیان ہے ۔تجاویز میں ایران کی 15 سال کیلئے جوہری سرگرمیوں سے دستبرداری اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ طور پر امریکا،ایران کے تعاون سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے حوالے سے میڈیا کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایسی چیزیں ہیں جس کو میں چند میڈیا اداروں کی خیالی رپورٹ تصور کر رہا ہوں اور منصوبے میں ایسی کوئی چیز شامل نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی بنیادی سفارتی اور سکیورٹی کوششیں خطے بھر میں اور خاص طور پر لبنان میں جارحیت روکنے پر مرکوز ہیں، ہم اس وقت خطے میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہے اور فیصلے مناسب وقت پر کئے جائیں گے ۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے دہرایا کہ اس مرحلے پر ہماری توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے اور ہمارے جوہری معاملات پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے 14 نکات پر اپنا جواب پاکستان کو دیدیا ہے اور اس وقت ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے دو ماہ کی جنگ بندی کی تجویز دی تھی تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل کئے جائیں اور توجہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہونی چاہئے ۔ ایرانی تجاویز میں دوبارہ حملوں سے گریز کی ضمانت، خطے سے امریکی افواج کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا ازالہ، پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر کشیدگی کا اختتام اور آبنائے ہرمز کیلئے نئے نظام کار کی تشکیل شامل تھے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایرانی منصوبے کا جائزہ لیں گے تاہم ابتدائی طور پر انہوں نے اسے ناقابل قبول قرار دیا ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہوسکتاہے کہ امریکا ایران پر دوبارہ حملے شروع کردے ۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ ایران کے خلاف ایک ناممکن فوجی کارروائی کا انتخاب کرے یا پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک بری ڈیل کر لے ۔جبکہ تہران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کیلئے ڈیڈ لائن بھی مقرر کر دی ہے ، جس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ، جس میں انہوں نے امریکی کارروائیوں کو قزاقی سے تشبیہ دی، کہا کہ یہ بیان دراصل بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا اعتراف ہے اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ۔یہ کوئی زبان کی لڑکھڑاہٹ نہیں تھی، یہ ان اقدامات کی مجرمانہ نوعیت کا کھلا اور افسوسناک اعتراف تھا جو امریکا بین الاقوامی بحری سفر کے خلاف کر رہا ہے ۔ ایران کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے بریگیڈیئر جنرل سردار جعفر اسدی نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات ہیں ، مسلح افواج کسی بھی نئی امریکی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ شواہد سے ظاہر ہے کہ امریکا کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں