جماعت اسلامی کا نظام کی تبدیلی کیلئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
فارم 47 ہی نہیں 45والے بھی ناکام ،عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گئے ، حکمران عیاشیاں کررہے ہیں:حافظ نعیم افسر شاہی نو آبادیاتی نظام کی باقیات ،نئی قیادت، نیا نظام کے نعرے کے تحت جدوجہدجاری :دیر بالا میں خطاب
دیر بالا (مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے ملک گیر عوامی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملک میں دو نظام اور دو دستور نہیں چل سکتے ، عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں جبکہ حکمران طبقہ عیاشیاں کر رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 ہی نہیں بلکہ فارم 45 کے تحت آنے والے بھی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ دیر بالا میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں صرف چہرے ، نعرے اور جھنڈے بدلے مگر نظام جوں کا توں رہا۔ نئی قیادت، نیا نظام کے نعرے کے تحت جدوجہد جاری ہے اور اسے مزید منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جلسہ گاہ کا بھر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نعیم الرحمن نے کہا کہ اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ اور مافیاز کے گٹھ جوڑ نے ملکی وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے جبکہ 25 کروڑ عوام معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق مارشل لا ہو یا جمہوری ادوار، اقتدار مخصوص طبقوں تک محدود رہا اور عام آدمی محروم رہا۔
انہوں نے بیوروکریسی کو نوآبادیاتی نظام کی باقیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا رویہ عوام دوست نہیں۔انہوں نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں غریب کیلئے انصاف کا حصول مشکل ہے جبکہ کرپشن ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے ۔ آئی پی پیز، چینی اور آٹا مافیا کو معیشت پر قابض قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی عناصر عوامی مفادات کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملکی قرضہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی لگا کر عوام سے اربوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لٹر مقرر کی جائے اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی جائے ۔تعلیم کے شعبے میں مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اور صوبائی حکومتیں تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کے بجائے آؤٹ سورسنگ کی پالیسی اپنا رہی ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آ کر یکساں اور مفت تعلیمی نظام نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے نہیں بلکہ عوامی قوت سے اقتدار میں آئے گی۔ ملک بھر میں تنظیمی مہم کے تحت 50 لاکھ نئے ممبرز بنانے اور 50 ہزار عوامی کمیٹیاں قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔آخر میں حافظ نعیم نے کہا کہ یہ جلسہ ایک بڑی تحریک کا آغاز ہے جو پورے ملک میں پھیلائی جائے گی اور حقیقی تبدیلی لا کر رہے گی۔