بھارت کی آبی جارحیت:چناب میں پانی کا ریکارڈ کمی،اقدام جنگ تصور کیا جائیگا:عاصم افتخار
ہیڈمرالہ میں پانی کی آمد 11ہزار900کیوسک سے کم ہوکر9ہزارکیوسک رہ گئی،پانی کا اخراج ایک ہزار،ایک سو کیوسک بھارت پانی میں کمی کی وضاحت دے ، انڈس واٹر کمشنر ،ہم اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے تیار ہیں، مستقل مندوب اقوا م متحدہ
اسلام آباد ، نئی دہلی ( نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت کی جانب سے پانی روکنے کے باعث دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی،پاکستان نے بھارت سے وضاحت طلب کرلی ہے ۔واپڈا کی جانب سے جاری اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روزکے مقابلے میں دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 11ہزار 900 کیوسک سے کم ہو گئی ۔واپڈا کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پردریائے چناب میں پانی کی آمد اب صرف 9ہزار کیوسک رہ گئی جبکہ ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا اخراج ایک ہزار،100کیوسک ہے ۔ ادھر واپڈا نے دریا ئوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ۔ اعدادوشمار کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 41 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 50 ہزار کیوسک ہے ،منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 36 ہزار کیوسک اور اخراج 36 ہزار کیوسک ہے ،چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 89 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 84 ہزار کیوسک ہے ،ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 9 ہزار کیوسک اور اخراج ایک ہزار 100 کیوسک ہے۔
نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 33 ہزار کیوسک اور اخراج 33 ہزار کیوسک ہے ،دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی کے معاملے پر پاکستان نے بھارت سے وضاحت طلب کرلی۔ذرائع وزارت آبی وسائل نے بتایاہے کہ مرالہ کے مقام پر چناب میں پانی کی کمی سندھ طاس معاہدے کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، انڈس واٹر کمشنر نے بھارتی ہم منصب سے تفصیلات طلب کی ہیں اور بھارتی انڈس واٹر کمشنر سے مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد میں بڑی کمی کی وضاحت کا کہا گیا ہے ۔ ادھر اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب عاصم افتخاراحمد کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات علاقائی امن وسلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں،پاکستان بھارت کیساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا اور یہ بات ہر سطح پر واضح کی جاچکی ہے ۔ عاصم افتخاراحمد نے کہا کہ ہم اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں، بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کو اعلان جنگ تصور کیاجائے گا ۔ مندوب نے کہا کہ پاکستان کشیدگی پراقوام متحدہ کی ثالثی قبول کرنے پررضامند ہے ، ماہرین کے مطابق بھارت نے معرکہِ حق میں بدترین ہزیمت اور عالمی رسوائی سمیٹی۔