تھپڑ کا جواب فائرنگ سے کہاں دیا جاتا ہے ؟ سپریم کورٹ
جب سے آیا کانوں کو ہاتھ لگارہا ہوں:جسٹس ہاشم، اپیل منظور، عمر قید پانیوالا بری ایک اور قتل کیس میں نامزد ملزم سابق رکن اسمبلی میر شہریار اور بیٹے کی ضمانت کنفرم
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ پاکستان نے فاتحہ خوانی کی تقریب کے دوران دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے مقدمے میں اپیل منظور کر کے عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کو بری کر دیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ہم سمجھتے تھے کہ صرف بلوچستان میں فائرنگ سے قتل ہوتے ہیں لیکن یہاں تو پورے خاندان قتل ہو جاتے ہیں۔ جب سے یہاں آیا ہوں دونوں کانوں کو ہاتھ لگارہا ہوں۔ اگر ایک پارٹی فاتحہ خوانی کر رہی تھی تو آپ بھی اپنی فاتحہ خوانی کرتے ۔
تھپڑ کا جواب فائرنگ سے کہاں دیا جاتا ہے ؟ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا آپ نے اپنا دفاع ضرور کیا لیکن اشتعال کا مظاہرہ زیادہ کر دیا۔ عدالت نے ملزم عبدالباسط کو مقدمے سے بری کر دیا ۔ فاتحہ خوانی کی تقریب میں دشمنی کی بنا پر دو گروپوں میں فائرنگ سے 3 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ ادھر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قتل کے مقدمے میں نامزد سابق رکن اسمبلی میر شہریار اور بیٹے جہانگیر خان کی ضمانت کنفرم کر دی ۔ ملزمان پر جام مہتاب پر حملے کا الزام تھا، ایک شخص قتل اور دو افراد زخمی ہونے کا مقدمہ ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو میں درج کیا گیا۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ضمانت کنفرم کر دی۔