سموگ کیس :ہائیکورٹ کا ٹریفک کی بہتری کیلئے عملی اقدامات کا حکم
جرمانے بڑھانا حل نہیں ،محکمہ ماحولیات بتائے الیکٹر ک سکوٹیز کہاں ہیں ؟ جسٹس شاہد شوکت خانم کا نام تو لے سکتے ہیں ناں؟ فاضل جج کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے
لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سی ٹی او سے 14 مئی تک تفصیلی عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے چیف ٹریفک آفیسر کو ٹریفک کی بہتری کیلئے عملی اقدامات کرنے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا،سی ٹی او نے موقف اپنایا کہ ایک ہفتے سے ہم نے سموگ کے حوالے سے سخت کریک ڈاؤن کیا ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ جو گاڑیاں پکڑتے ہیں ان کا کیا کرتے ہیں ؟ ایک پورا میکینزم ہونا چاہیے ،دوبارہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ،چار ٹریفک وارڈنز ایک سا ئید پر کھڑے ہو کر صرف موٹر سائیکل سواروں کو روکتے ہیں،سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں کو کچھ نہیں کہا جاتا، صرف موٹر سائیکل سواروں کے پیچھے پڑے ہیں،ہمیں سموگ کو ابھی سے کنٹرول کرنا ہوگا ۔
سی ٹی او نے بتایا کہ ڈی جی ماحولیات کے ساتھ میٹنگ ہوچکی، ٹریفک قوانین میں ترمیم سے جرمانے بڑھے ۔عدالت نے کہا کہ جرمانے بڑھانا مسائل کا حل نہیں ،محکمہ ماحولیات بتائے جوالیکٹرک سکوٹیز لی تھیں وہ کہاں ہیں ؟کیا وہ سکوٹیز افسروں کے گھروں پر کھڑی ہیں کیونکہ سڑکوں پر تو نظر نہیں آتیں ،اگر وہ سکوٹیز سڑکوں پر نظر آجائیں تو بہت سے مسائل حل ہوجائیں ،اگر آپ ہفتے میں ایک دو بار بغیر پروٹوکول کے خود سڑک پر جائیں گے تو بہت سی چیزیں نظر آجائیں گی۔ سی ٹی او نے کہا میں 14 گھنٹے ڈیوٹی کرتا ہوں جس میں سے 10 گھنٹے سڑکوں پر ہوتا ہوں۔جس پر عدالت نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے ،ہمارا روڈ سٹرکچر بہت برا ہے ،شوکت خانم کے پاس روڈ پر بلاوجہ کٹ بنایا گیا ،شوکت خانم کا نام تو لے سکتے ہیں ناں؟۔ عدالت کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے ۔ مزید سماعت 14مئی تک ملتوی کر دی۔