صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی تجاویز پرایران کا جواب مسترد کر دیا
جواب ناقابل قبول ،مجھے پسند نہیں، ایران امریکا اور دنیا کیساتھ 47سال سے کھیل کھیل رہا،تاخیر و چالاکی کے ذریعے الجھائے رکھا ، ضرورت پڑنے پر مزید 2ہفتے حملے کر سکتے :ٹرمپ ؤ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے فوجی کمانڈر علی عبداللہی کی ملاقات ، بھر پور مقابلہ کرنیکا حکم ،ایران کے یو اے ای ،کویت پر ڈرون حملے ،امریکی کارگو جہاز بھی نشانہ ،آگ بھڑک اٹھی
اسلام آباد،واشنگٹن،دبئی،کویت (نیوز ایجنسیاں ، دنیا مانیٹرنگ)امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی تجاویز پر ایران کا جواب مسترد کردیا،ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا جواب قابلِ قبول نہیں ہے ۔سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا میں نے ایران کے نمائندوں کا جواب پڑھا ہے ، مجھے یہ پسند نہیں ہے ، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول، اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ۔ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گزشتہ 47 برسوں سے امریکا اور دنیا کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے ،ایران نے امریکا کو مسلسل تاخیر اور چالاکی کے ذریعے الجھائے رکھا ہے ، تہران نے امریکا کا مذاق اڑایا ہے ، تاہم اب ایسا مزید نہیں چل سکے گا۔ ٹرمپ نے کہا ایران کو جلد اس رویے سے روکا جائے گا، امریکا اب پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے ، ایران کو نتائج بھگتنا ہوں گے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں تمام اہداف کو نشانہ بنانے میں صرف دو ہفتے لگ سکتے ہیں ، ایران کو عسکری طور پر شکست ہو چکی ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران میں اپنے تقریباً 70 فیصد اہداف حاصل کر لیے ہیں ، باقی اہداف بھی نشانے پر ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مزید دو ہفتے میں مکمل کارروائی کی جا سکتی ہے ۔
انہوں نے نیٹو کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کاغذی شیر قرار دیا اور کہا کہ اتحادی ممالک ایران کے خلاف مہم میں امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا افزودہ یورینیم ملبے تلے دبا ہوا ہے ، ہم وہاں پہنچیں گے اور ملبے تلے دبے ایرانی افزودہ یورینیم کی نگرانی کریں گے ۔ ایرانی افزودہ یورینیم کی نگرانی کی ذمہ داری امریکی اپیس فورس سنبھالے گی ،اگر کوئی ایرانی افزودہ یورینیم کے پاس جائے گا تو ہمیں پتا چل جائے گا،پاس جانے والے کو اڑادیں گے ۔ادھر روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو منتقل کرنے اور محفوظ رکھنے کیلئے تیار ہیں۔ روسی صدر نے کہامیرا ملک واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطے میں رہے گا، مجھے امید ہے کہ یہ تنازع جلد از جلد ختم ہوجائے گا۔قبل ازیں ایران نے کہا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکا کی تازہ مجوزہ دستاویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھیج دیا ۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ مکمل جائزے اور حتمی مشاورت کے بعد امریکی پیشکش کا جواب دیں گے ۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت اس مرحلے پر مذاکرات کا محور خطے میں جنگ کے خاتمے کے موضوع پر ہوگا۔واضح رہے گزشتہ ہفتے امریکانے ایران کو نئی تجاویز پیش کی تھیں ، جس کے بعد ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے تھے کہ وہ تہران کے جواب کے منتظر ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ تجاویز ایک صفحے پر مشتمل 14 نکات پر مبنی تھیں۔امریکی اخبار کے مطابق ایران نے یورینیم افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔
ایران نے امریکا کا 20 سال تک یورینیم افزدوہ نہ کرنے کا مطالبہ مستردکردیا ہے جبکہ ایران کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز مرحلہ وار کھولنے کی تجویز ہے ۔ایران نے امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ایران کی جوہری معاملات پر آئندہ 30 روز میں مذاکرات کی تجویز ہے ، ایران نے جوہری تنصیبات ختم کرنے کا امریکی مطالبہ بھی مسترد کردیا۔دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے فوج کو جنگی آپریشنز جاری رکھنے کا حکم دیدیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سے فوج کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے ملاقات کی، جس میں سکیو رٹی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مجتبیٰ خامنہ ای نے ممکنہ امریکی واسرائیلی حملے کا بھر پور مقابلہ کرنیکا حکم دیا ، ایرانی سپریم لیڈر نے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی کو جنگی آپریشنز جاری رکھنے کا حکم دیدیا اور دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ امریکی اور صہیونیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے منصوبے موجود ہیں۔علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات اور کویت نے ایران کی جانب سے ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔ یو اے ای حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے دو ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ کویت نے بھی اپنی فضائی حدود میں ایرانی ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس دوران جنوبی کوریا کے ایک کارگو جہاز’’ ایچ ایم ایم نامو‘‘ کو بھی دھماکوں سے نقصان پہنچا، قطر کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ ابو ظہبی سے آنے والا ایک امریکی پرچم بردار کارگو جہاز میسعید بندرگاہ کے قریب اتوار کو ایرانی ڈرون حملے کا نشانہ بنا ۔ برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق جہاز پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جسے بجھا دیا گیا ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر کے ساحل کے قریب نشانہ بننے والا کارگو جہاز امریکا کا تھا اور وہ امریکی پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا۔ایرانی پولیس (فرجا) کے ترجمان سعید منتظرالمہدی کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی پولیس نے مختلف نوعیت کے 185 میزائل ناکارہ بنائے ہیں۔ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ممالک امریکا کی ایران پر عائد پابندیوں کو نافذ کریں گے ، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جنگ میں دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اور ایرانی نظام کے سیاسی توازن کو بھی نقصان نہیں پہنچا بلکہ ملک کے اندر اتحاد اور یکجہتی میں اضافہ ہوا ہے ۔ ایرا ن کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن جنگ میں ناکامی کے بعد اب معاشی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے ۔ ملک میں توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری کو فروغ دینا ضروری ہے ،توانائی کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے بچت کی ضرورت ہے ۔ ایران نے برطانیہ اور فرانس کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی جہاز بھیجے تو ایرانی مسلح افواج فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں گی۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امن کے وقت یا جنگ کے دوران، صرف ایران اس پانی کی سکیورٹی قائم کر سکتا ہے اور کسی بھی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یاد رہے برطانیہ اور فرانس اس وقت ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہرمز کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے پانیوں میں فرانس کا کسی بحری جہاز کی تعیناتی کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ ایک حفاظتی مشن ہے جو ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں کیا جائے گا۔