قطری ایل این جی کارگونے آبنائے ہر مز پار کر لیا،3دن میں پاکستان پہنچے گا

قطری  ایل  این  جی  کارگونے  آبنائے  ہر  مز پار  کر  لیا،3دن  میں  پاکستان  پہنچے  گا

حکومت نے مہنگی سپاٹ خریداری موخرکرکے کم قیمت اورلانگ ٹرم معاہدہ کے تحت ایل این جی حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائی گرمیوں میں 5کارگوز درکار،ایک مارکیٹ سے خریدچکا ،مقامی گیس فیلڈز سے 3کارگوز کے برابر گیس فراہم کی جارہی

 اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)قطر سے لانگ ٹرم معاہدے کے تحت ایل این جی کا کارگو پاکستان دو سے 3 دنوں میں پہنچے گا۔پٹرولیم ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار جو اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی ہے ۔  عہدیدار نے بتایا کہ قطر سے لانگ ٹرم معاہدے کے تحت ایک ایل این جی کارگو حاصل کیا گیا ہے جو اس وقت آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور پاکستان کی طرف آ رہا ہے ۔یہ کارگو معاہدے کے تحت 9 سے 10 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں پاکستان کو پڑا ہے ۔ جب سے یہ صورتحال شروع ہوئی تھی تو قطر نے ایل این جی دینا بند کی تھی تاہم اب پاکستان کو ایل این جی کا پہلا کارگو قطر سے معاہدے کے تحت حاصل ہوا ہے ۔اس آنے والے کارگو سے پہلے پاکستان نے ایک ایل این جی کارگو مارکیٹ سے بھی خریدا ہے جو اس وقت ٹرمینل ٹو پر موجود ہے ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ اور دیگر متعلقہ حکام نے ایرانی حکام سے بات چیت کرکے اس کارگو کو آبنائے ہرمز سے گزارا ہے ۔

اس سے پہلے بھی ایران نے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔ایک اور ذریعے نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ پاکستان کو اس وقت ایل این جی کی ضرورت اس لیے ہے کہ موسم گرم ہونے پر بجلی کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان کو گرمیوں کے موسم میں چار سے پانچ ایل این جی کارگوز درکار ہوتے ہیں جبکہ مقامی گیس فیلڈز سے 2 سے 3 کارگوز کے برابر گیس فراہم کی جا رہی ہے ۔پاکستان میں اس وقت ایل این جی کا ایک کارگو موجود ہے جو مارکیٹ سے خریدا گیا ہے ، جبکہ دوسرا کارگو جو لانگ ٹرم معاہدے کے تحت آ رہا ہے جلد پاکستان پہنچے گا۔ جب ذرائع سے مزید کارگوز کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آگے جو بھی ہوگا پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا۔گزشتہ دنوں پاکستان نے مارکیٹ سے سپاٹ خریداری کے تحت ایل این جی کے لیے بولیاں طلب کی تھیں۔ پاکستان کو تین بولیاں موصول ہوئی تھیں لیکن پاکستان نے ان کی خریداری مؤخر کردی تھی۔ موصول ہونے والی بڈز میں دو کی قیمت 18 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے زیادہ تھی اور ایک بڈ 17.99 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی تھی۔ پاکستان نے اس کی خریداری مؤخر کی تھی کیونکہ اس کا اثر بجلی کے بلوں پر پڑتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں