2050 تک ملکی آبادی 40 کروڑ ہو جائیگی ، معاشی ترقی و استحکام کیلئے بڑا چیلنج

 2050 تک ملکی آبادی 40 کروڑ ہو جائیگی ، معاشی ترقی و استحکام کیلئے بڑا چیلنج

پنجاب کی آبادی 20کروڑ ،سندھ 9کروڑ 11لاکھ ،خیبرپختونخوا 6کروڑ 76لاکھ ، بلوچستان کی آبادی ڈھائی کروڑ ہونے کاامکان اسلام آباد کی آبادی بڑھ کر 65 لاکھ تک ہوسکتی ہے ،آبادی پرقابوپانے والے صوبوں کیلئے این ایف سی میں مراعات کی تجویز آبادی موجودہ رفتارسے بڑھتی رہی تو وسائل ناکافی ہو جائینگے ، صوبے اقدامات کریں:احسن اقبال ،نپس کی کاوشوں کوسراہا

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)2050تک ملکی آباد ی 25 کروڑ سے بڑھ کر 40کروڑ تک پہنچ جائے گی،پلاننگ کمیشن رپورٹ میں وارننگ دی گئی ہے کہ آبادی سے صحت، تعلیم، روزگار، پانی، خوراک و دیگر بنیادی سہولیات پر شدید دباؤ بڑھے گا۔وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق این ایف سی ایوارڈ میں آبادی پر قابو پانے والے صوبوں کیلئے مراعات کی تجویزہے ،ریپڈ ڈیکلائن منظرنامے میں 2050 تک پاکستان کی آبادی 37 کروڑ 19 لاکھ رہنے کی پیشگوئی ہے ۔ پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ سے بڑھ کر 20 کروڑ ،سندھ کی آبادی 9 کروڑ 11 لاکھ تک پہنچنے کی پیشگوئی ہے ،خیبرپختونخوا کی آبادی 6 کروڑ 76 لاکھ اور بلوچستان کی آبادی ڈھائی کروڑ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ، اسلام آباد کی آبادی 24 لاکھ سے بڑھ کر 65 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے ، پلاننگ کمیشن رپورٹ میں آبادی کے تخمینے 2023 سے 2050 تک کیلئے تیار کیے گئے ، اس رپورٹ کے مطابق شرح پیدائش 2023 کے دوران 28.3 سے کم ہو کر 2050 تک 16.8 رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

آبادی کے عمر رسیدہ ہونے کے باعث شرح اموات میں معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ، 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 11 کروڑ 79 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 97 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے ، ورکنگ ایج آبادی 13 کروڑ 52 لاکھ سے بڑھ کر 25 کروڑ 54 لاکھ تک پہنچنے کی پیشگوئی ہے ، نوجوانوں کی آبادی 2023 کے 6 کروڑ 29 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 10 کروڑ ہونے کا امکان ہے ، 65 سال سے زائد عمر افراد کی تعداد 86 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 26 لاکھ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ، 2023 میں پاکستان کی 67 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل تھی، 2050 تک 30 سال سے کم عمر آبادی کا تناسب کم ہو کر 54 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا، آبادی میں تبدیلی صحت، تعلیم، روزگار اور سماجی تحفظ کیلئے نئی پالیسیوں کی متقاضی ہوگی، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نیشنل اینڈ پروونشل پاپولیشن پروجیکشنز 2023 سے 2050 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا آبادی میں بے ہنگم اضافہ پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور وسائل کے مؤثر استعمال کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے ، جس پر قابو پانا وقت کی قومی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کا 82 فیصد انحصار آبادی کے تناسب پر ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس نظام میں ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جو آبادی میں توازن پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔احسن اقبال نے خبردار کیا کہ اگر آبادی موجودہ رفتاربڑھتی رہی تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 37 سے 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے ،اگر وسائل سے زیادہ آبادی بڑھتی رہی تو وسائل کمزور اور ناکافی ہو جائیں گے جس کے اثرات براہ راست عوام کے معیارِ زندگی پر پڑیں گے ۔ وفاقی وزیر نے کہا پاکستان کو محض آبادی کی تعداد بڑھانے کے بجائے تعلیم یافتہ، ہنر مند، صحت مند اور باصلاحیت انسانی سرمایہ تیار کرنے پر توجہ دینا ہوگی،18ویں آئینی ترمیم کے بعد آبادی کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے اس لیے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آبادی میں توازن کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز، ٹریننگ اینڈ ریسرچ (NIPST&R) نے وزارتِ قومی صحت ،وزارتِ منصوبہ بندی کے تعاون ،اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کی معاونت سے 2023 سے 2050 تک آبادی کے تخمینوں پر مبنی مشق مکمل کی ۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال نے اس قومی اہمیت کے حامل منصوبے کی تکمیل پر نپس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسز ثمینہ حسن، ڈائریکٹر ربیعہ ظفر سمیت دیگر ٹیکنیکل ایکسپرٹس اور ڈیموگرافرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا یہ منصوبہ پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی معیار اور قومی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ مکمل کیا گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں