لاہور کے 4مقدمات میں پنکی گرفتار ہوئی نہ چالان کیاگیا
ایک مقدمے میں پنکی کابھائی ناصر بری ہوا،دوسرے میں ساتھی طاہرکوسزاہوئی تیسرے میں ساتھی صابراں بی بی بری ہوئی ، پنکی کیخلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی
لاہور(کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) ڈرگ سمگلر انمول پنکی اور اسکے ساتھیوں کے خلاف لاہور میں درج 4 مقدمات کا عدالتی ریکارڈ منظر عام پر آگیا،جس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد نذیر نے 8دسمبر 2020 کو تھانہ اقبال ٹائون میں 2 کلو منشیات برآمدگی کیس میں پنکی کے بھائی محمد ناصر کو بری کردیا ،پنکی اور اسکے بھائی کے خلاف تھانہ اقبال ٹائون میں 22مئی 2020 کو مقدمہ درج ہوا تھا،ایڈیشنل سیشن جج محمد اشفاق نے 2019 میں تھانہ لیاقت آباد میں درج 17سو گرام منشیات برآمدگی کیس میں پنکی کیلئے کام کرنے والے ملزم محمدطاہر کو 17اکتوبر 2020 کو سزا سنائی ،ایڈیشنل سیشن جج رانا عمران شفیع نے پنکی کیلئے کام کرنے والی صابراں بی بی کو2024 میں تھانہ وحدت کالونی میں 20 گرام کوکین کے مقدمہ سے بری کیا ،ایک مقدمہ تھانہ کوٹ لکھپت میں بھی درج ہوا، چاروں مقدمات میں انمول پنکی کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ذرائع کے مطابق مقدمات میں نامزد ہونے کے باوجود پنکی کا کسی ایک کیس میں بھی کریمنل ریکارڈ نہیں بنایا گیا۔ کسی ایک مقدمے میں بھی پنکی کا چالان نہیں کیا گیا جبکہ اس کی گرفتاری التوا میں رکھی گئی۔ اس حوالے سے تفتیش کادائرہ کار وسیع کردیاگیاہے اورڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے ایس پی سی آر او کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو لاہور کے تمام تھانوں میں پنکی کا گزشتہ 12سال کا ریکارڈ چیک کریگی ،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے کہا کہ فرائض میں غفلت برتنے اورپنکی کو بچانے میں ملوث افسروں کے خلاف کریمنل دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے ۔