پنکی کے نیٹ ورک میں غیر ملکی بھی شامل،منشیات کا آن لائن دھندا:موبائل فون میں 869نمبرز،3 کروڑ کی ٹرانزیکشن

پنکی  کے  نیٹ  ورک  میں  غیر  ملکی  بھی  شامل،منشیات  کا  آن  لائن  دھندا:موبائل  فون  میں  869نمبرز،3 کروڑ کی  ٹرانزیکشن

ملزمہ کا برانڈ نیم اسکا پھندا بنے گا، ہر ملزم کیخلاف کارروائی ہوگی، 3ہینڈلرز، 22کیریئرز کے ذریعے کراچی میں منشیات سپلائی کی جاتی ڈیٹا مرتب، 9افراد گرفتار کرلئے ،بسوں سے دوسرے شہر منشیات سپلائی کی جاتی، کیس منطقی انجام تک پہنچائیں گے :کراچی پولیس چیف

 کراچی (سٹاف رپورٹر)کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہاہے کہ منشیات فروشی  کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل سے 869نمبر  ملے ہیں جن میں 132 کراچی کے نمبرز بھی ہیں، ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات لی گئی ہیں،پنکی کی جانب سے 3 کروڑ کی ٹرانزیکشن کی گئی، اس نیٹ ورک میں افریقہ کے لوگ بھی ہیں، ملزمہ پنجاب میں تھی اورمنشیات کاآن لائن دھنداہوتاتھا۔ ہر ملوث ملزم کے خلاف کارروائی ہوگی۔سینٹرل پولیس آفس میں ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی،ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ،ڈی آئی آر جی سپیشل برانچ شیراز نذیر،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے مزید کہا کہ پنکی کیس ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے ، ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، دیکھئے گا پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا۔ ہم کیس میں صرف کراچی تک محدود نہیں، جو لوگ پنکی سے نشہ لے کر بیچتے تھے ان کو پکڑا ہے ، ملزمہ کے سہولت کاروں کوبھی پکڑا جا رہا ہے ، سچل میں پنکی کے پرانے گھر میں ریڈ کیا، وہاں سے بھی منشیات مل گئی ہے ، یہ منشیات باہر سے آتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا پنکی کیس سے متعلق ایف آئی اے اور سائبر کرائم کے ساتھ رابطہ کر لیا گیا ہے ، کیس کی بڑے پیمانے پر تفتیش کی جاری ہے ۔

انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک میں غیر ملکیوں سمیت 20 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،ملزمہ منشیات کا بین الصوبائی آرگنائز آن لائن نیٹ ورک چلاتی تھی، منشیات کی ڈلیوری کے لیے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے 8 بائیک رائیڈرز کو کراچی میں نیٹ ورک چلانے کے لیے بلایا گیا جن کی شناخت کرلی گئی ہے ۔ ملزمہ کے خلاف 17 پرانے اور 3 نئے مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں، جن میں سے 9 مقدمات میں ملزمہ کی گرفتاری عمل میں لائی جاچکی ہے جبکہ اس کے نیٹ ورک سے جڑے 9 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ پنکی مسافر بسوں کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر منشیات سپلائی کرتی تھی،ملزمہ نے 2018 میں اپنا آن لائن منشیات کا دھندا شروع کیا اور مختلف شہروں میں منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہوا تھا، منشیات کے آرڈر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے وصول کیے جاتے اور لوکیشن کا تبادلہ ہوتے ہی کھانے پینے کے مختلف شعبوں میں آن لائن بائیک رائیڈرز کے ذریعے کلائنٹس تک منشیات پہنچائی جاتی تھی،پنکی کی فون بک سے 869 رابطہ نمبر ملے ہیں جن میں سے 300 ایسے نمبر ہیں جو ملزمہ کے ایکٹو کسٹمرز ہیں، ملزمہ کے موبائل فون سے 6 مختلف بینک اکاؤنٹس کا سراغ ملا، جن میں ایک سال کے دوران 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی ۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ پنجاب پولیس،اے این ایف اور ایف آئی اے امیگریشن حکام کو خطوط بھی ارسال کردئیے گئے ہیں جبکہ ملزمہ کے نیٹ ورک سے جڑے 4 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق کراچی میں منشیات فروشی کا بڑا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں پنکی کے ہینڈلرز، کیریئرز اور بائیک رائیڈرز کا ڈیٹا مرتب کرلیا گیا ہے ، جس میں ملزموں کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں ۔ نیٹ ورک میں شامل 3 ہینڈلرز اور 22 کیریئرز کے ذریعے کراچی میں منشیات سپلائی کی جاتی، ہینڈلرز سے کیریئرز اور پھر رائیڈرز کے ذریعے منشیات کسٹمرز کو پہنچائی جاتی۔ذرائع کے مطابق حمزہ، عباس اور عاقب پنکی کے کراچی میں ہینڈلرز تھے ۔ ڈیٹا رپورٹ کے مطابق ہینڈلرز کیساتھ رابطہ پنکی کے بھائی شوکت کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ پنکی کے ڈرگ کارٹیل کے کیریئرز میں 3 خواتین بھی شامل ہیں، تینوں کو 70 ہزار روپے تنخواہ پر رکھا گیا تھا۔لاہور سے آنے والی منشیات کو انمول عرف پنکی کا بھائی ناصر کیمیکلز ملا کر تیار کرتا تھا۔پنکی کے 8 رائیڈرز لاہور، فیصل آباد، وہاڑی سے آکر کراچی میں منشیات ڈیلیوری کرتے تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں