مصالحتی کوششوں میں چین پاکستان کیساتھ : دونوں ملک مل کر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی جلد بحالی کیلئے مثبت کردار ادا کرینگے : چینی وزارت خارجہ، شہباز شریف کل بیجنگ پہنچیں گے

مصالحتی کوششوں میں چین پاکستان کیساتھ : دونوں ملک مل کر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی جلد بحالی کیلئے مثبت کردار ادا کرینگے : چینی وزارت خارجہ، شہباز شریف کل بیجنگ پہنچیں گے

ایران تنازع پر پاکستان کا مرکزی کردار ، چین سے دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری،باہمی تعاون سے امن و ترقی آئیگی ،چینی قیادت سے ملاقاتوں میں دہشتگردی کیخلاف تعاون مضبوط بنائینگے :شہباز شریف چین کے ساتھ دوستی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ،دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا خیال رکھا:صدر زرداری، سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ پرتقریب سے خطاب

اسلام آباد،بیجنگ (سٹاف رپورٹر، نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)مصالحتی کوششوں میں چین پاکستان کیساتھ ،وزیراعظم شہباز شریف کل سے بیجنگ کے دورہ میں اہم مذاکرات میں شرکت کریں گے ،چینی وزارت خارجہ نے کہا دونوں ملک مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جلد بحالی کیلئے مثبت کردار ادا کرینگے ، شہبازشریف 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کررہے ہیں، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اور پاکستان کی قیادت دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کرے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جلد بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔ترجمان کے مطابق چین امن کے لئے پاکستان کے ‘منصفانہ اور متوازن’ کردار کی حمایت کرتا ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ پر  گزشتہ روز اسلام آباد میں تقریب منعقد کی گئی جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی ، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی و سینیٹ ، پاکستان میں چین کے سفیر کے علاوہ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے وائس چیئرمین بھی موجود تھے ۔ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا ایران تنازع پر پاکستان کا مرکزی کردار ہے جبکہ چین نے ثالثی کوششوں کی حمایت کی ہے ، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ، باہمی تعاون سے خطے میں امن و ترقی آئے گی۔

چین کی اقتصادی اور فوجی قوت دنیا کے لئے مثال ہے ، سی پیک 2.0 میں زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی و معدنیات ترجیح ہیں، مشترکہ کاوشوں سے ترقی کا راستہ طے کریں گے ۔ شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان سب سے پہلا مسلم ملک اور دنیا کے اولین ممالک میں شامل تھا جس نے چین کو تسلیم کیا، 75 سال قبل ہمارے بانیان نے ان تعلقات کی بنیاد رکھی، اس کے بعد ہم نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔60 کی دہائی میں پہلی پرواز جو بیجنگ ایئرپورٹ پر اتری وہ پاکستانی تھی ، ہم نے ہنری کسنجر کے دورے کا بندوبست کیا، پاکستان نے ہمیشہ ون چائنہ پالیسی کی حمایت کی ہے اور کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی طرح میرا دورہ چین بھی تعلقات کو دوام بخشے گا، دورے کے دوران چینی قیادت سے ملاقاتیں ہوں گی، دہشت گردی کیخلاف تعاون کو مضبوط بنائیں گے اور سکیورٹی اقدامات کو بہتر کریں گے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین کے صدر شی جن پنگ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے ۔

صدر زرداری نے اپنے خطاب میں کہا دونوں ملکوں نے باہمی احترام پر مبنی جس سفر کا آغاز کیا وہ دوستی کے ساتھ ساتھ دوطرفہ سٹرٹیجک تعاون اور پارٹنرشپ پر قائم ہے ، پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا خیال رکھا ہے ۔چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے جسے پاکستان میں عوامی، سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر مکمل حمایت حاصل ہے ۔پاکستان چین کے عالمی امن اور ترقی کے فروغ میں تعمیری کردار خصوصاً گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سکیورٹی انیشیٹو، گلوبل سویلائزیشن انیشیٹو اور گلوبل گورننس انیشیٹو جیسے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔قبل ازیں تقریب کا آغاز پاکستان اور چین کے قومی ترانوں سے ہوا۔ صدر نے اس موقع پر ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ کی نقاب کشائی بھی کی۔ تقریب کے دوران صدر مملکت نے وزیراعظم، چین سے آئے ہوئے معزز مہمان اور چینی سفیر کے ہمراہ کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر پاکستان اور چین سے تعلق رکھنے والے بچوں نے ایک رنگا رنگ شو بھی پیش کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں