ایران کا یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، ہم رکھنے نہیں دینگے : ٹرمپ
مواد باہر بھیجنے سے ایران مزید غیرمحفوظ ہوگا:مجتبیٰ خامنہ ای، ریاستی اداروں میں اتفاق،ایرانی صدر کی اپنے آرمی چیف سے ملاقات،ہرمز پر کنٹرول زون کا اعلان ایرانی ڈرونز کی پیداوار دوبارہ شروع:امریکی میڈیا، تیل پھر مہنگا،پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز، محسن نقوی کی دوسرے روز بھی تہران میں اہم ملاقاتیں
تہران،واشنگٹن(رائٹرز،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز عزم ظاہر کیا کہ امریکا آخرکار ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو حاصل کر لے گا، باوجود اس کے کہ ایران نے اسے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے ۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہاہم اسے حاصل کریں گے ، ہمیں اس کی ضرورت نہیں، ہم اسے نہیں چاہتے ، جب ہم اسے حاصل کر لیں گے تو غالباً اسے تباہ کر دیں گے ، لیکن ہم انہیں اسے رکھنے نہیں دیں گے ،ایران سے یورینیم کی واپسی ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کے مرکزی مقصد کا حصہ ہے ، جس کا ہدف یہ ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہ دی جائے ۔ دو سینئر ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر نے ایک ہدایت جاری کی ہے کہ ملک کا تقریباً ہتھیاروں کے درجے کے قریب افزودہ یورینیم بیرونِ ملک نہیں بھیجا جائے گا، اس اقدام نے تہران کے مؤقف کو مزید سخت کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے اس حکم سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید مایوس ہو سکتے ہیں اور ایران کے خلاف جاری امریکی، اسرائیلی جنگ کے خاتمے کیلئے ہونے والے مذاکرات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔اسرائیلی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے ضروری ہے ایران سے باہر منتقل کیا جائے گا، اور یہ کہ کسی بھی امن معاہدے میں اس سے متعلق ایک شق لازمی شامل ہوگی۔ دو ایرانی ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ سپریم لیڈر کی ہدایت اور ریاستی اداروں کے اندر موجود اتفاقِ رائے یہ ہے کہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہیں جانا چاہیے ۔ذرائع کے مطابق ایران کے اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ اس مواد کو بیرونِ ملک بھیجنے سے ملک مستقبل میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کیلئے مزید غیر محفوظ ہو جائے گا۔
خامنہ ای کو ریاست کے اہم ترین معاملات میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ وائٹ ہاؤس اور ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔اسرائیلی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ حملہ کرنے کا فیصلہ کریں گے یا نہیں، اور یہ بھی کہ آیا وہ اسرائیل کو دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کی اجازت دیں گے ۔ تہران نے کسی بھی حملے کی صورت میں تباہ کن ردعمل دینے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ تاہم، ذریعے نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے قابلِ عمل فارمولے موجود ہیں،ایسے حل موجود ہیں جیسے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجن(آئی اے ای اے )کی نگرانی میں اس ذخیرے کو کمزور کرنا ۔ ایران کا کہنا ہے کہ کچھ انتہائی افزودہ یورینیم طبی مقاصد کیلئے اور تہران میں موجود ایک ریسرچ ری ایکٹر کیلئے ضروری ہے ، جو نسبتاً کم مقدار میں تقریباً 20 فیصد افزودہ یورینیم پر چلتا ہے۔
ادھر سی این این نے جمعرات کو امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے واقف دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے جنگ بندی کے دوران کچھ ڈرون پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے ۔جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فوج کے کمانڈر انچیف امیر حاتمی سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران ملک کی جنگی تیاریوں اور دفاعی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی فوج نے اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری کے ذریعے ملک کی دفاعی صلاحیت اور طاقت کا مؤثر مظاہرہ کیا ہے ۔ ایرانی آرمی چیف امیر حاتمی نے اس موقع پر کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کے دفاع کیلئے ہر سطح پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایرانی صدر نے سوشل نیٹ ورک ایکس پراپنے ایک پیغام میں کہاکہ ایران کو طاقت کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا محض ایک خوش فہمی ہے ۔جبکہ ایران کی خلیج فارس واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک کنٹرول زون (سرویلنس ایریا) قائم کرنے کا اعلان کردیا،جہازوں کو پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ اتھارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کے انتظامی اور نگرانی کے علاقے کا تعین کرتے ہوئے کہا اس کا کنٹرول متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے جنوب تک پھیلا ہوا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق اس علاقے کی حد مشرقی جانب ایران کے جبلِ مبارک اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی فجیرہ کو ملانے والی سرحد سے شروع ہوتی ہے ، جبکہ مغربی جانب ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے سے امارات کے ام القوین تک پھیلی ہوئی ہے۔
اس ادارے کے مطابق اس علاقے سے گزرنے والے بحری جہازوں کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ پرشین خلیج واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ پیشگی رابطہ کریں اور اس ادارے سے اجازت حاصل کریں۔دبئی اور ابوظہبی نے ایران کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور ہرمز کی آزادی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدہ ہونے تک ایران کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جائے گا، ایران کے جواب کا چند روز انتظار کریں گے ۔ایران امریکا مذاکرات کی غیریقینی صورتحا ل کے پیش نظر تیل قیمتوں میں 4فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 3اعشاریہ 7فیصد اضافے کے ساتھ 108اعشاریہ 55ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 3اعشاریہ 9فیصد اضافے کے ساتھ 102اعشاریہ 04ڈالر فی بیرل میں طے پائے ۔ادھر پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو تیز کرنے کیلئے سفارتی کوششیں بڑھا دیں، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ، جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔محسن نقوی نے 24 گھنٹے میں ایرانی وزیرداخلہ سکندر مومنی سے بھی دوسری مرتبہ ملاقات کی۔ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق تہران میں زیرِ بحث متن عمومی فریم ورک سے متعلق ہے جبکہ بعض تفصیلات اور اعتماد سازی کے اقدامات بطور ضمانت شامل کیے جا رہے ہیں۔