ہائیکورٹ:منی لانڈنگ کیس، 2 خواتین کی عبوری ضمانتیں خارج
دونوں کی 40 کروڑ کی پراپرٹیز ، آمدن کا ذریعہ نہیں بتا سکیں:وکیل اے این ایف تفتیشی افسر خود ہی مدعی ،چھوٹا افسر اس کیس کی تفتیش نہیں کرسکتا :وکیل صفائی
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منشیات کی کمائی سے منی لانڈرنگ میں ملوث 2 خواتین ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔ دوران سماعت عدالتی استفسار پر اے این ایف کے وکیل نے بتایا کہ ملزمہ ماریہ عمر کی 4 اور رمشا عاصم کی 4 پراپرٹیز ہیں ،ملزمہ ماریا کا خاوند بھی کراچی میں منشیات کا کام کرتا ہے ، جیل میں رہ چکا ، دونوں خواتین پر ڈیفنس میں2018ئسے 2025ء تک تقریباً 40 کروڑ کی پراپرٹیز بنانے کا الزام ہے ،خواتین کے بینک اکاؤنٹس میں 75 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئیں لیکن وہ ان کی قانونی وضاحت اورثبوت فراہم نہیں کرسکیں ، آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں بتا سکیں ، وکیل صفائی نے جواب دیا کہ اے این ایف نے 3 پراپرٹیز قبضے میں لیں ، جس کیلئے کسی عدالت سے منظوری نہیں لی ،تفتیشی افسر خود ہی مدعی اور خود ہی تفتیشی ہے ،گریڈ 18 سے کم کا افسر اس مقدمے کی تفتیش نہیں کرسکتا ،پراپرٹی سے منی لانڈرنگ بارے کبھی سوال نہیں کیا گیا ۔ وکیل اے این ایف نے کہا ان کو نوٹس جاری کئے گئے جس میں ساری پراپرٹیز کا حوالہ دیا گیا ۔