افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکیں سرگرم، حملے تیز

 افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکیں سرگرم، حملے تیز

گرین ٹرینڈ نے فیروزکوہ میں طالبان مرکز تباہ کردیا،ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری اندرونی مزاحمت اور معاشی بحران صورتحال مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں ،عالمی ماہرین

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف سیاسی اور مسلح مزاحمتی تحریکوں کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مزاحمتی تنظیم افغانستان گرین ٹرینڈ نے صوبہ غور کے دارالحکومت فیروزکوہ میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو دھماکے سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق حملے میں طالبان فورسز کے بھرتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی جبکہ واقعہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی ۔

سابق افغان نائب صدر امر اللہ صالح کی قیادت میں قائم افغانستان گرین ٹرینڈ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جابر طالبان رجیم کے خاتمے اور افغانستان کی مکمل آزادی تک مسلح کارروائیاں جاری رہیں گی۔تنظیم نے ایکس پر جاری پیغام میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق گرین ٹرینڈ اس سے قبل 21 اپریل کو بھی طالبان اہداف پر حملہ کر چکی ہے ۔عالمی امور کے ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کو درپیش اندرونی مزاحمت، پے در پے گوریلا حملے اور معاشی بحران افغانستان کی موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف مزاحمتی تحریکیں سرگرم ہو چکی ہیں اور بعض علاقوں میں انہیں مقامی حمایت بھی حاصل ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں