حکومت خرچے کیلئے ٹیکس بڑھارہی

 حکومت خرچے کیلئے ٹیکس بڑھارہی

لاہور(این این آئی، آئی این پی)سابق وزیر اعظم و عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلا ضرورت اخراجات ،بیورو کریسی کیلئے ڈالے اور حکمرانوں کے جہاز یہ صرف اخراجات نہیں بلکہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جسے بدلنا ہوگا۔۔۔

ہمیں ایلیٹ کلچر ختم کرنا ہوگا ،ہرشناختی کارڈ رکھنے والا ٹیکس فائلر ہونا چاہیے ،حکومت اپنے خرچے پورے کرنے کیلئے عام شہریوں پر ٹیکس بڑھارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی یونیورسٹی میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار سے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریو نیو شبر زیدی، ماہر معیشت فاطمہ اسد ،ماہر معیشت عظیم حسین و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 1990میں جب ہماری حکومت آئی تو ریفارمز کی کوشش کی گئی،سنگاپور تین لوگوں کو بھیجا گیا،ہمارا ڈیٹا دیکھ کر وہاں کے لوگوں نے کہا کہ آپ تو بینک کرپٹ ہیں اورآج بھی ویسا ہی ہے ،بجٹ میں کوئی چیز نہیں ہوتی ، خسارہ پورا کرنے کیلئے مزید ٹیکسزلگا دیتے ہیں ،ہمیں ریفارمز کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آج ہماری سب سے زیادہ آمدن پورٹس سے ہے ،اس کے لئے ایف بی آر کی ضرورت نہیں ،ہمیں ایلیٹ کلچر سے نکلنا ہوگا،بھارت اور بنگلہ دیش میں فیول پر ٹیکس زیادہ مگر وہاں بیس پرائس کم ہے ،یہاں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں کئی سو فیصد بڑھ گئیں ۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صوبے این ایف سی ایوارڈ کو غلط سمجھتے ہیں تو بجلی اور فیس کو صوبوں کے حوالے کردیں ،اگر ملک میں سرمایہ کاری لانی ہے تو عدلیہ کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا،آئی ایم ایف خود عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھا رہا ہے ۔سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریو نیو شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی ٹیکس چور ہے ، تاجروں سے کوئی بھی ٹیکس نہیں لے سکتا، کوئی بھی حکمران ہو کسی بھی بازار میں جائے اور ٹیکس لینے کیلئے داخل ہو کر دکھا دے ، اگر ایسا ہوا تو خود کشی کر لوں گا۔

انہوں نے کہاکہ 25فیصد سپر ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ دنیا میں اوسط ٹیکس شرح 26فیصد ہے لیکن پاکستان میں مجموعی طور پر 51فیصد تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ، مہنگی چیزوں کے ساتھ ہم اپنی صنعت کو بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 11کھرب روپے سرکولیشن میں ہیں جبکہ بعض بینک اور مالیاتی ادارے بھی ٹیکس چوری میں ملوث ہیں، ناکام ریاست ٹیکس وصول کرنے میں ناکام ہو گئی اور ملک میں نااہلی ہی بنیادی مسئلہ ہے ، پرویز مشرف ہو ،بانی پی ٹی آئی ہو شہباز شریف ہو یا شوکت عزیز وہ ریاست کو نہیں چلا سکے ۔ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی یا جنگ کے خاتمے سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ ملک اپنی مارکیٹنگ اور معاشی حکمت عملی بہتر بنائے ،1947سے اب تک ہمارے پاس جتنے ڈالر آئے ہم نے ان سے زیادہ خرچ کئے ،اسی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے ،ہمارے پاس ایک عزت تھی ہم نے وہ بھی بیچ دی ،اگر ہم کراچی پر توجہ دیں تو اسے ہم دبئی کے طرز پر ڈیویلپ کرسکتے ہیں ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں