ایران کے محاذ پر پاکستان کی شٹل ڈپلومیسی ، 48 گھنٹے اہم

 ایران کے محاذ پر پاکستان کی شٹل ڈپلومیسی ، 48 گھنٹے اہم

محسن نقوی کی فوری تہران واپسی ایران امریکا مذاکرات بحالی کیلئے مثبت اشار ہ

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران کے محاذ پر شٹل ڈپلومیسی کا عمل ظاہر کر رہا ہے کہ پاکستان نے امریکا ایران مکمل جنگ بندی کیلئے کلیدی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے اورمحسن نقوی کا ایک ہی ہفتہ میں دوسرا دورہ اس امر کا ثبوت ہے ۔ محسن نقوی نے واشنگٹن کی جانب سے اہم جوابات اور تجاویز ایران تک پہنچائیں اور انہیں موجودہ حالات میں جنگ سے بچنے کیلئے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا ، لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ محسن نقوی کے دورہ تہران کے مقاصد کیاہیں۔ کیا ایران مذاکراتی عمل کی بحالی اور مستقل جنگ بندی کے حوالہ سے کردار کی ادائیگی کیلئے تیار ہوگا اور پاکستان کی جاری ثالثی عمل کی نتیجہ خیزی کے امکانات کیا ہیں۔ تاہم اس حوالہ سے 48 گھنٹوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔

خوش آئند امر یہ ہے کہ آپس میں برسرپیکار امریکا و ایران پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہتے نظر آ رہے ہیں ،وزیر داخلہ محسن نقوی کے حوالہ سے ایک عام تاثر یہ ہے کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مذکورہ ایشو پر تائید و حمایت بھی رکھتے ہیں ،اپنے پہلے دورہ تہران اور ایرانی صدر سمیت دیگر ذمہ داروں سے ملاقاتوں کے بعد وطن واپس آنا اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کے بعد پھر تہران جانا ایک خاص مشن اور اس کے حوالہ سے مثبت اشاروں کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ۔اطلاعات ہیں کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں سے پہلے راضی ہو جائے جبکہ ایران مستقل جنگ بندی کے بعد الگ سے بات چیت پر آمادہ ہے اور خصوصاً آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالہ سے بھی آمادگی ظاہر کر ر ہا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نقوی کا پاکستان واپسی کے بعد فوری دوبارہ تہران جانا امریکا ایران جنگ بندی کے سگنل اور مذاکرات کی بحالی کے ضمن میں ایک مثبت اشارہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ امریکا پاکستان کے ذریعے اہم ایشو پر لچک کیلئے تیار ہو چکا ہے اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے اور اس ضمن میں حتمی اعلان تہران سے ہوگا ،ویسے خود عالمی میڈیا اس امر کی گواہی دے رہا ہے کہ پاکستان کا ثالثی کردار اہم ہے اور کوئی بھی فریق پاکستان کو کمزور ثالث نہیں سمجھتا ۔ جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ ایران پاکستان کی بات مانے گا تو بڑی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ ایران پاکستان کو ایک معتبر ثالث مانتا ہے اور پاکستان ایران کو باور کرا رہا ہے کہ مل جل کر کی جانے والی بات ہی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے اور ایران کے محاذ سے پاکستان کیلئے مایوسی والی بات نظر نہیں آ رہی ،اطلاعات ہیں کہ اگر امریکا اپنے مطالبات میں لچک پیدا کرتا ہے تو ایران بھی کچھ اہم معاملات پر لچک کیلئے تیار ہے اور اس حوالہ سے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں