گنڈا پور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کیلئے درخواست دائر

گنڈا پور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کیلئے درخواست دائر

سہیل آفریدی کا تقرر غیر قانونی :مروت ،میرا تعلق نہیں :گنڈا پور ، یہ سازش :گوہر

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت میں علی امین گنڈاپور کی بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بحالی کیلئے سابق پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے درخواست دائر کر دی ۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ غیر آئینی، غیر قانونی اور دباؤ کے تحت لیا گیا، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ علی امین گنڈاپور کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے اقدامات کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کیا جائے ،علی امین گنڈاپور سے استعفیٰ ایک سزایافتہ نااہل فرد کی ڈکٹیشن پر لیا گیا، لہٰذا یہ استعفیٰ آزادانہ اور رضاکارانہ نہیں تھا۔

سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ تقرری کالعدم قرار دے کر علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے پر بحال کیا جائے ۔ دوسری طرف علی امین گنڈاپور نے وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست بارے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ میں نے اپنے لیڈر عمران خان کے حکم پر بلاتاخیر وزارتِ اعلیٰ کے استعفے کی ہدایات پر عملدرآمد کروا کر اپنا فرض ادا کیا،کسی بھی کیس یا عدالتی کارروائی کے ساتھ میرا کوئی تعلق ہے نہ عمل دخل۔ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے شیرافضل مروت کی درخواست کو سازش قرار دیتے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بنانے کی اجازت صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان دیتے ہیں ، سہیل آفریدی ان کی مرضی سے وزیراعلیٰ بنے ، یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہو سکتا،ہم سازش کی مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بھی وضاحت دے دی ، جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں