تربیلا ڈیم توسیع : لاگت میں 234 ارب اضافہ، انکوائری کا فیصلہ : واپڈا سے وضاحت طلب

تربیلا ڈیم توسیع : لاگت میں 234 ارب اضافہ، انکوائری کا فیصلہ : واپڈا سے وضاحت طلب

پانچویں توسیعی منصوبے کی لاگت میں 400گنا اضافہ ہوا، 82 ارب سے بڑھ کر316 ارب روپے تک پہنچ گئی سول ورکس 27 ارب سے بڑھ کر 160 ارب ،کنسلٹنسی اخراجات 1.7 ارب سے بڑھکر 11.26 ارب تک پہنچ گئے سی ڈی ڈبلیو پی کااجلاس ، تربیلا منصوبے کی لاگت میں اضافے ، تاخیر پر رپورٹ طلب ،بھاشا ڈیم بھی 485 ارب سے تجاوز

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)تربیلا ڈیم پانچواں توسیع منصوبہ کی لاگت میں 234 ارب روپے اضافے کا انکشاف ہوا ہے جو400گنا کے قریب بنتا ہے ۔ 9 برسوں کے دوران توسیع منصوبے کی لاگت 82 ارب روپے سے بڑھ کر 316 ارب روپے سے زائد ہو گئی ۔پلاننگ کمیشن نے واپڈا سے وضاحت طلب کرتے ہوئے انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ منصوبے کی لاگت میں اضافے کی انکوائری 1 ماہ میں مکمل کر کے ایکنک کو بھجوائی جائے گی۔ تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیع پن بجلی منصوبے جس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 1530 میگاواٹ ہو گی کی لاگت میں غیر معمولی اضافے ، تاخیر اور بجلی پیداوار میں کمی پر پلاننگ کمیشن نے واپڈا سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ تربیلا پن بجلی منصوبے کا بنیادی مقصد تربیلا ڈیم میں پہلے سے موجود 4,888 میگاواٹ پن بجلی صلاحیت میں مزید 1,530 میگاواٹ کا اضافہ کرنا ہے ۔ منصوبے کے تحت موجودہ ٹنل نمبر 5 کو بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

منصوبے میں نئے ٹربائنز اور جنریٹرز کی تنصیب، انٹیک سٹرکچر میں تبدیلی، پین سٹاک، پاور ہاؤس، سوئچ یارڈ اور ٹیل ریس چینل کی تعمیر شامل ہے ۔سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کا اصل پی سی ون دسمبر 2016 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 82 ارب 36 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا تھا جس میں 35 ارب 98 کروڑ روپے غیر ملکی زرِمبادلہ کا حصہ تھا۔ تاہم اب نظرثانی شدہ پی سی ون کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت بڑھ کر 316 ارب 41 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جس میں 180 ارب 69 کروڑ روپے فارن ایکسچینج کمپوننٹ شامل ہے ۔ سول ورکس کی لاگت 27 ارب روپے سے بڑھ کر 160 ارب روپے تک پہنچ گئی جو تقریباً 482 فیصد اضافہ بنتا ہے ۔ اسی طرح الیکٹرو مکینیکل ورکس کی لاگت 36 ارب روپے سے بڑھ کر 91 ارب روپے ، کنسلٹنسی اخراجات 1.7 ارب روپے سے بڑھ کر 11.26 ارب روپے ، جبکہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز 1.6 ارب روپے سے بڑھ کر 13.7 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ لاگت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سول ورکس کیلئے موصول ہونے والی زیادہ بولیاں، عالمی مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی، منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلیاں، مختلف ویری ایشن آرڈرز، کنسلٹنٹس کی تبدیلی، ٹنل نمبر 5 کی تاخیر سے حوالگی، سکیورٹی اخراجات اور ٹرانسمیشن لائن کے روٹ میں تبدیلی شامل ہیں۔ بریفنگ کے دوران معلوم ہوا کہ منصوبے پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز 2021 میں ہوا جبکہ ابتدائی ہدف اگست 2024 میں تکمیل تھا تاہم مختلف انتظامی، تکنیکی اور جغرافیائی مسائل کے باعث منصوبے میں تاخیر ہوئی۔ سابق کنسلٹنٹ کمپنی ایم ایم ایل نے مئی 2024 میں معاہدہ ختم کر دیا تھا جس کے بعد نئی کنسلٹنٹ فرم ایم ایم پی بی آئی ڈی آر کی خدمات حاصل کی گئیں جس سے مزید اخراجات بڑھے ۔حکام نے بتایا کہ منصوبے میں 376.19 ملین ڈالر کی فنانسنگ گیپ موجود ہے جس میں سے عالمی بینک نے 300 ملین ڈالر اضافی فنڈنگ کی منظوری دے دی ہے جبکہ باقی رقم واپڈا اپنے وسائل سے فراہم کرے گا۔

اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ منصوبے پر منظور شدہ لاگت سے 141 ارب 66 کروڑ روپے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس کی باضابطہ منظوری نہیں لی گئی۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی اجلاس میں منصوبہ کی تھرڈ پارٹی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ فورم نے ڈیم منصوبوں میں غیر شفاف کنسلٹنٹ کی تعیناتی پر سی ڈی ڈبلیو پی کا عدم اطمینان کا اظہار کیا۔سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں دیا میر بھاشا ڈیم اور تربیلا ڈیم منصوبے زیرغور آئے ۔ پلاننگ کمیشن اعلامیہ کے مطابق ڈیم منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے شدید اظہار تشویش کیا۔ دیا مر بھاشا ڈیم پی سی ون میں چھ سالہ تاخیر ہونے اور ناقص منصوبہ بندی پر احسن اقبال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا وزارت آبی وسائل 6 سال نظر ثانی شدہ پی سی ون منظوری کیلئے نہ لا سکی، متعلقہ وزارت کی غفلت کے باعث لاگت میں اضافہ ہوا۔

وزیر منصوبہ بندی کی واپڈا کو میگا پراجیکٹس کی پیشہ ورانہ مینجمنٹ بہتر بنانے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ میگا منصوبوں میں کمزور گورننس ناقابل قبول ہے ، سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں ڈیم منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں اور تاخیر پر سنگین تحفظات ہیں۔ دستاویز کیمطابق دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی لاگت 479 ارب روپے سے بڑھ کر 485 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ واپڈا کے زیرنگرانی دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی لاگت میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے جس میں تعمیراتی اخراجات، کنسلٹنسی، مہنگائی اور دیگر مالیاتی ایشوز شامل ہیں۔ منصوبے کے براہ راست تعمیراتی اخراجات 274 ارب روپے سے زائد ہیں جبکہ انجینئرنگ اور پراجیکٹ آفس کی مد میں 17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تعمیراتی مدت کے دوران مہنگائی کے باعث اخراجات میں 106 ارب روپے کا اضافہ بھی شامل کیا گیا ۔ منصوبے کی تکمیل کا دورانیہ نومبر 2018 سے جون 2028 تک رکھا گیا ہے ۔ اس دوران ہیلی کاپٹر کی خریداری، کے کے ایچ منتقلی اور واپڈا اوورہیڈ سمیت مختلف اضافی اخراجات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کیلئے مقامی لاگت 325 ارب روپے جبکہ غیر ملکی لاگت 159 ارب روپے سے زائد رکھی گئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں