سی پیک میں مزید فریقین کی شمولیت ، سکیورٹی شراکت داری، دہشتگردی کیخلاف تعاون : پاکستان ، چین کا مشترکہ اعلامیہ
افغانستان کے معاملے پر تعاون جاری ،تحریک طالبان پاکستان اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کو اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں کرنے دینگے جموں و کشمیر تاریخی تنازع ،پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے :چین،پاکستان نے تائیوان کو چین کا اٹوٹ حصہ قرار دیا،آزادی کی مخالفت کا اعادہ کیا
اسلام آباد (دنیا نیوز،ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں پاکستان اور چین نے شراکت داری کو مزید گہرا کرنے ،سی پیک میں مزید فریقین کی شمولیت ، سکیورٹی شراکت داری ،دہشتگردی کیخلاف تعاون پر اتفاق کیا گیا،دونوں ممالک نے افغانستان کے معاملے پر قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی فرد، گروہ یا تنظیم بشمول کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،چین نے کہاکہ جموں و کشمیر تاریخی تنازع ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے ،پاکستان اور چین نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی دوستی جو دونوں ممالک کی کئی نسلوں کی قیادت نے پروان چڑھائی ایک قیمتی اثاثہ اور سٹریٹجک سرمایہ ہے ، سفارتی تعلقات کے 75 برسوں کے دوران یہ دوستی ہر قسم کے عالمی اور علاقائی حالات کے باوجود مضبوط رہی ہے ، اور دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے پر اعتماد، احترام اور حمایت کا اظہار کیا،مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ،اعلامیہ میں بتایا گیا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں صدیوں میں نہ دیکھی جانے والی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، چین پاکستان سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
چین اور پاکستان نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کو تیز کریں گے جو چین اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ مستقبل کی مثال قائم کرے گی،دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے دوطرفہ تعلقات کے تحفظ اور فروغ کے لیے ثابت قدم رہیں گے ، اعلیٰ سطح کے رابطوں کو برقرار رکھیں گے ،باہمی اعتماد، عملی تعاون، دفاعی و سکیورٹی تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور بین الاقوامی و علاقائی امور پر قریبی رابطہ رکھا جائے گا تاکہ اس تعلق کو دونوں عوام کے فائدے اور خطے و دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے ،پاکستان نے صدر شی جن پنگ کے منصوبوں کی حمایت کی ،فریقین نے صدر آصف علی زرداری کے اپریل اور مئی 2026 میں چینی صوبوں ہونان اور ہائنان کے دورے ، قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے جنوری 2026 میں چین کے دورے کو سراہا، فریقین نے جنوری 2026 میں چین،پاکستان وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور، چین ،پاکستان سیاسی جماعتوں کے فورم اور سی پیک سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی میکانزم کے اجلاس کی کامیابی کا خیرمقدم کیا،پاکستان نے مئی 2026 میں چین کی قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین کائی دافینگ کے دور ہ پاکستان کو سراہا، جنہوں نے پاک۔
چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی۔ دونوں ممالک نے سٹریٹجک مکالمے اور مختلف سطحوں پر تبادلوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا،پاکستان نے ون چین پالیسی سے اپنی غیرمتزلزل وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ تائیوان عوامی جمہوریہ چین کا اٹوٹ حصہ ہے ، پاکستان نے تائیوان کی آزادی کی ہر شکل کی مخالفت اور قومی اتحاد کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا،پاکستان نے سنکیانگ، زیزانگ، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرہ چین کے معاملات پر چین کے مؤقف کی حمایت کی، پاکستان نے چین کو 14ویں پانچ سالہ منصوبے کے سٹریٹجک اہداف کی کامیاب تکمیل اور 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے مؤثر آغاز پر مبارکباد دی، چین نے پاکستانی قیادت کو اڑان پاکستان (2024-2029) کے تحت معاشی استحکام حاصل کرنے پر مبارکباد دی، دونوں ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو مزید آگے بڑھانے ، سی پیک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (JCC) کے اجلاس منعقد کرنے اور سی پیک 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی پر اتفاق کیا،اس دورہ کے دوران دونوں ممالک نے قراقرم ہائی وے (تھاکوٹ۔رائیکوٹ ری الائنمنٹ منصوبہ) کو مرحلہ وار مکمل کرنے پر اتفاق کیا، گوادر پورٹ کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے اور خنجراب پاس کے مؤثر استعمال سے زمینی رابطے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، فریقین نے تیسرے ممالک کو بھی سی پیک میں شرکت کی دعوت دی۔
دونوں ممالک نے مقامی ضروریات کے مطابق صنعتی پارکس کے قیام اور ٹیکسٹائل و گھریلو آلات کے شعبوں میں صنعتی تعاون کے نمائشی منصوبے شروع کرنے پر اتفاق کیا، فریقین نے جنوری 2026 میں چین۔پاکستان معدنی تعاون فورم کی کامیابی کو سراہا اور معدنیات، تیل و گیس کی تلاش اور ترقی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک نے چین میں ایک ہزار نوجوان پاکستانی زرعی ماہرین کی تربیت مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا، چین نے پاکستان کی زرعی پیداوار بڑھانے ، چینی کمپنیوں کی زرعی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پاکستانی زرعی مصنوعات کی چینی منڈی تک رسائی آسان بنانے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک نے معیشت، تجارت، توانائی، ڈیجیٹل اکانومی، مالیات، سائنسی و تکنیکی جدت، مصنوعی ذہانت، اطلاعات و مواصلات، آبی وسائل اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، پاکستان نے چین کے اس فلسفے کو سراہا کہ لوگوں کو صرف مچھلی نہ دی جائے بلکہ مچھلی پکڑنا بھی سکھایا جائے ،چین نے دو پاکستانی خلا بازوں کو تربیت کے لیے خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ ایک پاکستانی جلد چینی خلائی اسٹیشن میں جانے والا پہلا غیر ملکی خلا باز بنے گا، دونوں ممالک پرامن اور باہمی فائدہ مند انداز میں خلائی تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔