10یا 20ارکان سہیل آفریدی کو نہیں ہٹا سکتے :شوکت یو سفزئی
یہ کام صرف عمران خان ہی کرسکتے ہیں ،پارٹی میں ناراضگیاں ہیں مگرتعداد کم پارٹی چھوڑنے پرسیاست ختم،پرویز خٹک مثال:’’دنیا مہر بخاری کیساتھ‘‘میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما شوکت یو سفزئی نے کہا ہے کہ اختلاف ہوتے رہتے ہیں، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا،2013 کی ہماری اسمبلی دیکھیں تو اس میں بھی لوگ کچھ ناراض ہوئے تھے ،پھر 2018 کی اسمبلی میں ہمارے کچھ لوگ ناراض تھے ، پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یو سفزئی نے کہا ہے کہ ناراضگی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ فارورڈبلاک بنا ر ہے ہیں ، یا کوئی اپنا الگ گروپ بنا رہے ہیں،یہ سب کو پتا ہے سہیل آفریدی کو عمران خان نے نامزد کیا تھا، علی امین گنڈاپور کو بھی عمران خان نے نامزد کیا تھا،یہ کہنا کہ پی ٹی آئی کے اندر گروپ بن رہا ہے اس سے حکومت کو کوئی خطرہ ہو گا۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ، ناراضگیاں بالکل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں،ان ارکان کی تعداد کم ہے ، اتنی نہیں ہے جو بیان کی جارہیہے ،ناراض ارکان کو راضی کرنے کی پوری کوشش ہورہی ہے ، وزیر اعلی ٰسہیل آفریدی ان سے مل رہے ہیں،میری بھی تین چار ارکان سے بات ہوئی ہے ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں جتنے لوگ پارٹی کو چھوڑ کر گئے ان کی سیاست ختم ہو گئی ہے ،اس کی مثال پرویز خٹک ہے ، اگر ہمارے ارکان میں سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سہیل آفرید ی کی جگہ کوئی اور وزیر اعلیٰ ہو تو یہ کام صرف عمران خان ہی کرسکتا ہے ، دس یا بیس بندے گروپ بنا کر کہیں کہ سہیل آفریدی کو ہٹانا ہے ، وہ نہیں ہٹا سکتے۔