حکومت تنخوا ہوں میں 50 فیصد اضافہ، الاؤ نسز ضم کرے، سرکاری ملازمین
بجٹ میں ہاؤس رینٹ،کنوینس الاؤنس بڑھا یاجائے ، پرانی پنشن سکیم بحال اور انکم ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھائی جائے تمام ملازمین کو صحت کارڈ فراہم کیے جائیں،آل پاکستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآرڈی نیشن کونسل کا دنیا فورم میں مطالبہ
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) آل پاکستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآرڈی نیشن کونسل نے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوشربا مہنگائی نے عام آدمی خصوصاً کم آمدنی والے سرکاری ملازمین کی کمر توڑ دی ۔ موجودہ تنخواہوں میں گزارا کرنا ناممکن ہو چکا ہے ، لہٰذا حکومت مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرے تاکہ ملازمین باعزت زندگی گزار سکیں۔دنیا فورم میں شرکت کے دوران آل پاکستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآرڈی نیشن کونسل کے صدر چودھری محمد حسین، سیکرٹری جنرل ذوالفقار احمد، نائب صدر محمد ارشد شاہ کوٹی، سیکرٹری اطلاعات راجہ نبیل، سینئر وائس چیئرمین زبیر افضل وڑائچ اور آل پاکستان ریٹائرڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر سید فرخ سیئر نے اپنے مطالبات پیش کیے ۔ شرکا نے کہا کہ 2022 کے بعد پے سکیلز پر نظرثانی نہیں کی گئی اس لیے 2022 سے 2025 تک کے عارضی الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے 50 فیصد اضافہ کیا جائے ۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے ملازمین کو 100 فیصد سیکرٹریٹ الاؤنس دیا جا رہا ہے ، اسی طرز پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت دیگر وفاقی اداروں کے ملازمین کو بھی 100 فیصد سیکرٹریٹ الاؤنس دیا جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیڈرل سیکرٹریٹ ملازمین کا 2013 کا 20 فیصد سپیشل الاؤنس بڑھا کر 100 فیصد کیا جائے۔
موجودہ مہنگائی کے پیش نظر گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے 15 ہزار روپے ماہانہ ہیلتھ الاؤنس مقرر کیا جائے یا تمام ملازمین کو صحت کارڈ فراہم کیے جائیں۔کونسل نے کنوینس الاؤنس کو مونٹائز کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے لیے 18 ہزار روپے اور گریڈ 17 سے 19 کے لیے 30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا جائے جبکہ معذور ملازمین کے الاؤنس میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ گریڈ 1 سے 22 تک کے ملازمین کو 60 فیصد ہاؤس رینٹ الاؤنس دیا جائے یا اسے تنخواہ کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ ملازمین بہتر رہائش حاصل کر سکیں، جبکہ سرکاری رہائش الاٹ ہونے کی صورت میں ہاؤس رینٹ کی 5 فیصد کٹوتی ختم کی جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنشن اصلاحات فوری واپس لی جائیں اور پرانی پنشن سکیم بحال کی جائے جبکہ لیو انکیشمنٹ بحالی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ریٹائرڈ ملازمین کے لیے 50 فیصد میڈیکل الاؤنس دینے کی تجویز بھی دی گئی۔مزید کہا گیا کہ گریڈ 1 سے 17 تک ریٹائر ہونے والے ملازمین کے ایک بچے کو سرکاری ملازمت دی جائے ، دوران ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتی کا نوٹیفکیشن بحال کیا جائے ، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو بھی بحال کیا جائے اور انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے۔