عمران کی رہائی کیلئے تحریک چلائی جائے: ناراض ارکا ن اسمبلی کا بیرسٹر گوہر کو خط
قید پارٹی ورکرز کی رہائی کیلئے قانونی جنگ لڑی جائے ، میرٹ سے انحراف، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ختم کی جائے پارٹی نظریے ،منشور کے پابند ،تحریک کو مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے ازسرِنو حکمتِ عملی مرتب کی جائے :متن
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )خیبرپختونخو اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان نے پارٹی اور حکومتی معاملات پر مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کیلئے موثر تحریک چلائی جائے ، قید پارٹی ورکرز کی رہائی کیلئے قانونی جنگ لڑی جائے ۔نجی ٹی وی کے مطابق خط میں حکومتی معاملات میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت، میرٹ سے انحراف، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور حلقوں میں متعلقہ اراکینِ صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور ترقیاتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں مناسب مشاورت نہ ہونے کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔اس حوالے سے حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کا اجلاس پشاور میں ہوا ،جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی اور حکومتی کے حوالے سے مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھا جائے جس کے بعد ناراض ارکان نے لمبا چوڑا خط لکھ بھیجا۔خط میں لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے متعدد اراکینِ صوبائی اسمبلی کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی جانب سے اراکینِ اسمبلی کو مختلف گروپوں یا شخصیات سے منسوب کرکے ایک غلط تاثر پیش کیا جا رہا ہے۔
تمام اراکینِ اسمبلی پاکستان تحریک انصاف کے نظریے ، منشور اور عمران خان کے وژن کے پابند ہیں، وہ کسی گروہ، دھڑے یا شخصیت کے ایجنڈے پر کام نہیں کررہے اور نہ ہی خود کو کسی مخصوص گروپ سے منسوب کرتے ہیں۔خط کے مطابق اجلاس میں عمران خان کی مسلسل قید، علاج معالجہ، اہلِ خانہ، وکلاء اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی رہائی کیلئے ایک مثبت، جامع، مؤثر اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اختیار کی جائے ۔خط میں سفارش کی گئی ہے کہ تحریک کو مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ازسرِنو حکمتِ عملی مرتب کی جائے ، عمران خان، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے مقدمات کی پیروی کے لیے ایک مربوط، فعال اور مؤثر قانونی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ کارکنان اور عوام کو پارٹی کی سنجیدگی اور عزم کا واضح پیغام مل سکے ۔ اجلاس میں صوبائی حکومتی معاملات میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت، میرٹ سے انحراف، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور حلقوں میں متعلقہ اراکینِ صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور ترقیاتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں مناسب مشاورت نہ ہونے کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تمام حکومتی امور شفافیت، میرٹ، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت کے مطابق انجام دئیے جائیں۔