موٹروے زیادتی کیس:مجرموں کی اپیلیں مسترد، سزائے موت برقرار

 موٹروے زیادتی کیس:مجرموں کی اپیلیں مسترد، سزائے موت برقرار

ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں مجرموں کوسزادی تھی

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے مقدمے میں دو مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید  شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔ مجرموں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور دفاع کا مو قف مناسب انداز میں نہیں سنا گیا، لہٰذا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ملزمان کو رہا کیا جائے ۔

پراسیکیوٹر راحیلہ شاہد نے اپیلوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شواہد اور میرٹ کی بنیاد پر درست فیصلہ دیا تھا، اس لیے اپیلیں خارج کی جائیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد دونوں مجرموں کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں مجرموں کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں دونوں مجرموں نے 25 مارچ 2021 کو اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے اس اہم کامیابی پر پراسیکیوشن ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پنجاب پراسیکیوشن کی مو ثر پیروی کا نتیجہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن ٹیم نے مقدمے کی ہر سطح پر بھرپور انداز میں پیروی کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں