نئے نکات پر گواہوں کی نئی فہرست ضروری نہیں:ہائیکورٹ
مخالف اپنے گواہ کو پیش نہ کرے تو دوسرا فریق طلب کر سکتا :جسٹس انوار حسین بینک منیجر کو بطور گواہ طلب کرنے کی اجازت، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے گواہوں کو عدالت طلب کرنے کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کیس میں نئے سوالات سامنے آنے کی صورت میں گواہوں کی نئی فہرست دینا لازمی نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے شہری رضوان رشید کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے جاری کیا ۔درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا ۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ عدالتی قوانین کا بنیادی مقصد انصاف تک رسائی کو آسان بنانا ہے نہ کہ شہریوں کو تکنیکی پیچیدگیوں میں الجھانا۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے تکنیکی بنیادوں پر درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مخالف فریق اپنے ہی لسٹڈ گواہ کو عدالت پیش نہ کرے تو دوسرا فریق اسے طلب کر سکتا ہے ،عدالت نے درخواست گزار کو بینک منیجر کو بطور گواہ طلب کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ بینک منیجر کا نام پہلے ہی گواہوں کی فہرست میں شامل تھا،مخالف فریق کی جانب سے اپنے گواہ کو پیش نہ کرنے پر درخواست گزار کو مجبوراً خود بینک منیجر کو طلب کرنے کی درخواست دینا پڑی۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالت کی جانب سے بینک منیجر کو گواہ بنانے کی درخواست مسترد کرنا غلط اور انصاف کے تقاضوں کے منافی تھا۔