محسن نقوی لبنان معاملہ پر نرمی کی بات کرینگے :نجم سیٹھی

محسن نقوی لبنان معاملہ پر نرمی کی بات کرینگے :نجم سیٹھی

اسرائیل نے جنگ جاری رکھی تو حوثیوں سے ملکر باب المندب بند کیا جاسکتا ایران سے زیادہ ٹرمپ پر پریشر ہے ،آج کی بات سیٹھی کے ساتھ میں تجزیہ

 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایران کے ایشو اس وقت دو ہیں، ایک تویہ ہے کہ سیزفائر ہے مگرہے نہیں،جنگ تو جاری ہے ،امریکا حملہ کرتا ہے ، ایران پھر اس کا جواب دیتاہے ،اس وقت دونوں فریق کہہ رہے ہیں کہ سیزفائر ہے مگر ہے نہیں،ان حالات کے اندر ایم او یو کا سائن ہونا بہت مشکل ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ ایران کا مطالبہ تھا کہ امریکا اپنی ناکہ بندی ختم کرے گا تو ہم آبنائے ہرمز سے ناکہ بندی ختم کردیں گے ،امریکا اپنی ناکہ بندی نہیں ختم کررہا،یہی ایشو ابھی اٹکا ہوا ہے ،دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران سے یہ کہتا ہے آپ کوئی ٹول نہیں لیں گے۔

ایران اس پر کوئی گارنٹی دینے کو تیار نہیں،ایران نے عمان سے بات چیت کی ہے ، انہوں نے اس پر فیصلے کیے ہوں گے ،یہ فیصلے امریکا کو قبول نہیں،یہ بھی ایشو ہے جو رکاوٹ بن رہا ہے ،اس وجہ سے صدر ٹرمپ نے عمان کو دھمکی دی تھی،ایران اور عمان بات چیت کررہے ہیں،امریکا اور یو اے ای والوں کو خطرہ یہ ہے کہ بات آگے نہ بڑھ جائے ،اور اس میں اور ملک نہ شامل ہوجائیں،اب صورتحال یہ ہے کہ کویت ، بحرین، یواے ای ایک طرف ہیں،سعودی عرب، عمان، قطر دوسری طرف ہیں، اس لئے امریکا بڑا پریشان ہے ،اس کایہ مطلب ہے کہ ابراہم اکارڈ نہیں ہوگا،کیونکہ اس قسم کی تقسیم سے یہ نہیں ہوسکتا،جونہی امریکا ایران کے جزیرے ، تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو ایران فورا ً کویت،بحرین میں قائم امریکی اڈوں پر میزائل مار دیتا ہے ،اس قسم کے حالات بنے ہوئے ہیں، اب اس کو کیسے روکا جائے ؟،ایران کی سوچ ہے تنازع کو چھ ماہ تک جاری رکھا جائے ، امریکا کو تھکا کر ماریں گے ،صدر ٹرمپ کے پاس وقت نہیں، وہ زیادہ دیر تک مار بھی نہیں کھا سکتا۔

صدر ٹرمپ کا جو بڑا مسئلہ ہے وہ ہے تیل،ابھی تک امریکا میں اس قسم کی مہنگائی نہیں ہوئی،اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا اپنے تیل کے ذخائر سے کمی کو پورا کررہا ہے ، تاکہ تیل کی قیمت زیادہ نہ بڑھے ،ماہرین کہہ رہے ہیں،چھ ہفتے کا سٹاک باقی رہ گیا ہے ،اگر چھ ہفتے ایسا ہی چلا تو امریکا کے تمام آئل سٹاک ختم ہوجائیں گے ،جس کا وہ متحمل نہیں ہوسکتا ،اس وجہ سے صدرٹرمپ پر سخت دباؤ ہے کہ مہنگائی نہ ہو، اگر مہنگائی ہوئی تو ٹرمپ اڑجائے گا،صدر ٹرمپ پر پریشر زیادہ ہے ، ایران پر نہیں ہے ،صدر ٹرمپ پاکستان سے رابطہ کرتا ہے ، کہتا ہے اب ایران کو یہ جاکر کہو، ہم ایران کے پاس جاتے ہیں، ان کو بتاتے ہیں ،ایران پھر اپنا جواب دیتا ہے ،ہم پھر امریکا کو پیغام بھجواتے ہیں،اہم ایشو جو رکاوٹ بنا ہوا ہے وہ ہے لبنان،میرا خیال ہے کہ اس وقت ساری چیزیں سیٹل ہو سکتی ہیں،24 ارب ڈالر جو دینے ہیں، اس پر قسط وار بات چل سکتی ہے ،ایران کو پہلی قسط ایک ملین ملے گی، پھر دس ملین،اس پر ٹائم لائن طے ہوجائیں گی،یہ کوئی ایشو نہیں ہے ،اس وقت لبنان ایشو ہے ، اسرائیل کہتا ہے ہم نے لبنان نہیں چھوڑنا،محسن نقوی ایران گئے ہیں، میراخیال یہی ہے ان سے یہ کہیں گے لبنان کے معاملہ پر ہم نرمی دکھا سکتے ہیں،یا نہیں،کیونکہ امریکا اسرائیل کو نہیں روک سکتا، اسرائیل بھی نہیں رک رہا،ہو سکتا ہے وہ یہ کہہ دیں کہ چھ سات دن اور دے دیں،پھر سیز فائر ہوجائے گی،اسرائیل سیزفائر کی بات نہیں مان رہا، اسرائیل کہتا ہے کہ ہم نے جنوبی لبنان لے کر رہنا ہے ،حزب اللہ کہتا ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اب خطرہ یہ بن رہا ہے جس کی وجہ سے یہ بھاگ دوڑ شروع ہوئی ہے ، اسرائیل کی جنگ لبنان سے جاری رہی، تو ممکن ہے ایران حوثیوں سے مل کر باب المندب بند کردے ،ہوسکتا ہے حوثی بھی کارروائی شروع کردیں، اگر وہاں محاذ کھل گیا اس کو بند کرنا مشکل ہوجائے گا،اس سے صدر ٹرمپ کیلئے مزید مشکلات بڑھ جائیں گی،پھر ان کو لوگ کہیں گے پہلے باب المندب کھلا تو اب آپ نے جنگ کرکے یہ بھی بند کروادیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں