فیلڈ مارشل کا سپریم لیڈر کیلئے خط عراقچی کے حوالے:محسن نقوی کی تہران میں اہم سفارتی ملاقاتیں،معاہدہ ہونے تک کوئی پابندی ختم ہوگی نہ اثاثے بحال ہونگے:ٹرمپ
وزیرداخلہ نے ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف کا پیغام بھی پہنچایا ،پاکستان کے ذریعے ثالثی رابطے جاری ،مذاکرات میں مسئلہ امریکی متضاد بیانات،اسماعیل بقائی ایران کیساتھ مل کر افزودہ یورینیم تلف کرینگے یافوجی طاقت استعمال کرینگے ، خلا سے ایرانی اقدامات کی نگرانی کر رہے ،ٹرمپ،خطے میں نئی جنگ کا امکان موجود ،رکن ایرانی قومی سلامتی کمیٹی
تہران،واشنگٹن (رائٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے ایک خصوصی خط اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام ایرانی قیادت کو پہنچادیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے پہلے نہ تو منجمد اثاثے بحال کئے جائیں گے اور نہ ہی پابندیاں ختم کی جائیں گی ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے خصوصی خط ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے کر دیا۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی پیغام بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پہنچایا۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے خصوصی خط اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام ایرانی حکام کے حوالے کیاہے ،یہ پیغام موجودہ علاقائی صورتحال سے متعلق ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے ہیں اور پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ سفارتی حل کیلئے ثالثی کردار ادا کر رہا ہے ۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات برادرانہ ہیں اور ایک ملک کے مسئلے کو دوسرا اپنا مسئلہ سمجھتا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں سے خطے کا بحران جلد حل ہو جائے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر محسن نقوی کے ساتھ ملاقات کی تصاویر جاری کی ہیں، جن میں انہیں پاکستانی قیادت کا خط وصول کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں سب سے بڑا مسئلہ واشنگٹن کے متضاد اور بدلتے ہوئے مؤقف ہیں۔پاکستان کے ذریعے ثالثی رابطے جاری ہیں تاہم ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کے منجمد اثاثے فوری طور پر بحال کئے جائیں اور اس کے پرامن جوہری پروگرام کو تسلیم کیا جائے ۔ایرانی حکام کے مطابق امریکا بعض منجمد ایرانی اثاثوں کو خطے کی تعمیر نو کیلئے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے جس پر تہران نے تحفظات ظاہر کئے ہیں۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے پہلے نہ تو منجمد اثاثے بحال کئے جائیں گے اور نہ ہی پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ ان کے مطابق مالی ریلیف صرف معاہدے کے بعد دیا جائے گا جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر سخت ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ٹرمپ نے این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو امریکا ایران کے ساتھ مل کر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ہٹانے اور تلف کرنے میں مدد کرے گا بصورت دیگر امریکا فوجی طاقت سے ایسا کرے گا۔ ہم ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کرنے جا رہے ہیں لیکن ہم انہیں اپنے اوپر گولی چلانے نہیں دیں گے ، ہم انتہائی سخت فوجی کارروائی کے ساتھ سب سے پہلے انہیں باہر نکالیں گے ۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا خلا سے ایرانی اقدامات کی نگرانی کر رہا ہے ،ہمارے پاس ہر جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں، ہم آپ کے کالر پر لکھا نام بھی پڑھ سکتے ہیں۔ میں ابھی مطمئن نہیں ہوں اوراس بات کو یقینی بنانے کے مزید ضمانتیں چاہتا ہوں کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی پر خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی اثاثوں کو ایک بار پھر جائز ہدف قرار دیا ہے ۔اتوار کو ایکس پر بیان میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی حکومت کو ملنے والے امریکی گرین سگنل نے خطے میں امریکی اور حکومتی اڈوں اور اثاثوں کو جائز اہداف میں تبدیل کر دیا ہے ،ہماری مسلح افواج کے ہاتھ ہمیشہ کی طرح کھلے ہیں۔قالیباف نے کہا کہ امریکا اسرائیل نہ تو جنگ بندی کے پابند ہیں اور نہ ہی بات چیت پر یقین رکھتے ہیں اور بحری ناکہ بندی اور لبنان کے حوالے سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے ذریعے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن وحید احمدی نے کہا ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ کا امکان موجود ہے ،امریکا کے ساتھ حقیقی جنگ بندی نہیں بلکہ صرف وقفہ ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے ، تاہم ایران نئے وسائل حاصل کر رہا ہے ۔ادھر امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز میں دو ایرانی ڈرون مار گرائے ہیں جو بین الاقوامی بحری راستوں کیلئے خطرہ بن رہے تھے ۔