پنجاب اسمبلی: 8اہم بل منظور،حکومت اپوزیشن ارکان میں تلخی

پنجاب اسمبلی: 8اہم بل منظور،حکومت اپوزیشن ارکان میں تلخی

محکمہ آبپاشی سے متعلق سوالات، نہروں پر قبضوں اور زرعی مسائل پر تفصیلی بحث حکومتی رکن کے سائفن کی مرمت پر تحفظات،بحالی ناگزیر ہے ،سپیکر محمد احمد خان

لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی نے آٹھ اہم بل کثرتِ رائے سے منظور کر لئے جبکہ اجلاس کے دوران محکمہ آبپاشی سے متعلق سوالات، نہروں پر قبضوں اور زرعی مسائل پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 26 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا،حکومتی رکن احسن رضا خان نے سائفن کی مرمت پر تحفظات کا اظہار کیا ، وزیر آبپاشی کاظم پیرزادہ نے بتایا کہ متعلقہ سائفن کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے ، احسن رضا خان نے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق مختلف ہیں اور نہر ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصل متاثر ہوئی ہے ، سپیکر نے کہا کہ اس سائفن کی مرمت کی تجاویز دی جاتی رہی ہیں اور اس کی بحالی ناگزیر ہے۔

وزیر آبپاشی نے وضاحت کی کہ سائفن میں تکنیکی خرابی نہیں تھی بلکہ پہلے کے سیلاب سے نقصان پہنچا تھا،ایوان کو بتایا گیا کہ تحصیل دیپالپور میں نہر کے کنارے 25 ایکڑ سرکاری اراضی پر بااثر افراد کے قبضے کا معاملہ سامنے آیا ہے ، محکمہ آبپاشی نے قبضے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا دوبارہ قبضے کی کوشش کی گئی جس کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے ، اجلاس کے دوران مختلف بلوں پر تفصیلی بحث ہوئی جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان متعدد مواقع پر سخت جملوں کا تبادلہ اور تلخی بھی ہوئی ، پنجاب اسمبلی نے دی پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن بل 2026، دی والڈ سٹی آف لاہور ترمیمی بل 2025، دی آغا خان پراپرٹیز سیکشن اینڈ ٹرانسفر بل 2026، دی پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز ترمیمی بل 2026، یونیورسٹی آف حافظ آباد بل 2026، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نارووال بل 2026 سمیت مجموعی طور پر آٹھ بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیے ،ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں