کالعدم ایکشن کمیٹی نے حلف نامہ سے الحاق پاکستان شق نکالنے کا مطالبہ کیا:راناثنا

کالعدم ایکشن کمیٹی نے  حلف نامہ سے الحاق پاکستان  شق نکالنے کا مطالبہ کیا:راناثنا

اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے )سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے گئے اور کئی مطالبات مانے بھی گئے مگر مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کے معاملے پر ڈیڈ لاک ہے ۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق والی چیزیں حلف نامے سے نکال دی جائیں،بھارت کے آلہ کار بن کر شرپسندی کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں ختم کر دی جائیں، ان پر منتخب اراکین کو کوئی وزارت، فنڈز اور سرکاری نوکریوں میں کوئی کوٹہ نہ دیا جائے ۔ اگر آزاد کشمیر سے مہاجرین کی نمائندگی ختم ہو جائے گی تو ان کی یہ تحریک ختم ہو جائے گی جبکہ شہید مقبول بٹ بھی مہاجر تھے ۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کو یہ معلوم تھا کہ چار اگست سے پہلے انتخابات ہوں گے ، ایکشن کمیٹی کا مقصد تھا کہ الیکشن نہ ہونے دئیے جائیں تاہم 30 مئی کو ہم نے آزاد کشمیر حکومت کو پورے 37 مطالبات کے بارے میں حساب دیا۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق والی چیزیں حلف نامے سے نکال دی جائیں۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا کسی جماعت سے تعلق نہیں اور نہ ہی وہ الیکشن میں حصہ لینے کو تیار ہے ۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کالعدم کمیٹی کے لوگوں نے فائرنگ کی جبکہ وہ لشکر کشی کر رہے ہیں اور بھارت کے چینلز اسے ‘‘آپریشن سندور 2’’ کا نام دے رہے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔کشمیر کی آزادی کی بنیاد ہی الحاقِ پاکستان تھی، پاکستان ہر قیمت پر آزاد کشمیر کا تحفظ کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں