ایران کیلئے 300 ارب ڈالر کا تعمیر نو فنڈ تیل فروخت کرنے کی بھی اجازت، 60 روز بعد حتمی معاہدے کے بعد تمام پابندیاں ختم : امریکا، ایران میں 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت

ایران کیلئے 300 ارب ڈالر کا تعمیر نو فنڈ تیل فروخت کرنے کی بھی اجازت، 60 روز بعد حتمی معاہدے کے بعد تمام پابندیاں ختم : امریکا، ایران میں 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت

واشنگٹن فنڈ میں رقم دینے کا پابند نہیں ، آبنائے ہرمز حتمی مذاکرات کے دوران بغیر ٹول کھلی رہے گی ،تمام محاذوں پربشمول لبنان جنگ بند کی جائیگی،معاہدہ کی توثیق سلامتی کونسل کی قرارداد سے ہوگی حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو پھرفوجی کارروائی،پاکستان اور قطر کا مذاکرات میں اہم کردار ،معاہدہ نہ ہوتا تو دنیا شدید معاشی دباؤ کا شکار رہتی :ٹرمپ، جی سیون ممالک اور پوپ لیو کا معاہدے کا خیرمقدم

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکا نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا سرکاری متن جاری کر دیا،جسے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران‘‘کا نام دیا گیا ہے ۔امریکی حکام نے کہا کہ اس کے تحت ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ واشنگٹن اس فنڈ میں رقم دینے کا پابند نہیں ہے۔ رائٹرز کو امریکی ذرائع نے بتایا کہ فنڈ کا مقصد ایران میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے اور اس رقم میں سے آدھے سے زیادہ پہلے ہی مختص کی جا چکی ہے۔

سینئر حکام کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے معاہدے پر دستخط ہوتے ہی تہران کو تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کی اجازت بھی مل جائے گی جبکہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کے بعد حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں تمام پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز 60 دن تک بغیر ٹول کے کھلی رہے گی، جس کے بعد ایران خلیجی ممالک خصوصاً عمان کے ساتھ مل کر اس پر طویل المدتی معاہدہ کرے گا۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے 14 نکات پر مشتمل اس دستاویز کو پڑھ کر سنایا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے ، ایران پر عائد بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل میں ہونے والی تکنیکی مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق توقعات کو بیان کیا گیا ہے ۔

1:امریکا اور ایران نیز موجودہ جنگ میں شامل ان کے اتحادی اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رہے ہیں تاکہ تمام محاذوں پر بشمول لبنان فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا جا سکے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کسی جنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہیں کریں گے ، ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں گے اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنائیں گے ۔ حتمی معاہدہ تمام محاذوں پر بشمول لبنان جنگ کے مستقل خاتمے اور اس شق میں مذکور دیگر دفعات کی توثیق کرے گا۔

2:امریکا اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

3:امریکا اور ایران اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرکے اسے طے کریں گے ،باہمی رضامندی کی صورت میں اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے ۔

4:اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکا ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دے گا۔اس مدت کے دوران بحری جہازوں کی آمدورفت کو ایران کی جانب سے جنگ سے قبل کی سطح کے مطابق بتدریج بحال کیا جائے گا۔مزید برآں امریکا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد 30 دن کے اندر اپنی افواج کو اسلامی جمہوریہ ایران کے قرب و جوار سے ہٹا لے گا۔

5:اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد ایران اپنی بہترین کوششوں کے ذریعے یہ انتظام کرے گا کہ خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس جانے والے تجارتی جہازوں کو 60 دن کی مدت کیلئے بلا معاوضہ محفوظ گزرگاہ فراہم کی جائے ۔تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع کر دی جائے گی جبکہ ایران کی جانب سے تکنیکی اور عسکری رکاوٹوں کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل بحالی 30 دن کے اندر عمل میں لائی جائے گی۔اسلامی جمہوریہ ایران عمان کے ساتھ مذاکرات کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی امور اور بحری خدمات کے نظام کا تعین کیا جا سکے ۔ یہ مشاورت خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ بھی کی جائے گی اور اس کا مقصد بین الاقوامی قانون کے قابلِ اطلاق اصولوں اور آبنائے ہرمز سے متصل ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا۔

6:امریکا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کیلئے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر مالیت کا ایک حتمی اور باہمی طور پر متفقہ منصوبہ تیار کرے گا،اس منصوبے کے نفاذ کا طریقئہ کار حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر 60 دن کے اندر طے کیا جائے گا۔ امریکا اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ متعلقہ مالی لین دین کیلئے درکار تمام لائسنس، استثنائی اجازت نامے اور دیگر ضروری منظوریوں کا اجرا کیا جائے گا تاکہ اس منصوبے پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد ممکن ہو سکے ۔

7:امریکا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں،انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور امریکا کی تمام یکطرفہ پابندیاں(بنیادی اور ثانوی دونوں)شامل ہیں۔یہ تمام پابندیاں حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر طے شدہ شیڈول کے مطابق ختم کی جائیں گی۔ ایران اور امریکا اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا پابندیوں کے خاتمے کا مسئلہ انتہائی اہم ہے اور دونوں فریقوں نے اپنی نیت ظاہر کی ہے کہ وہ ان مسائل کو فوری طور پر مذاکرات میں زیرِ بحث لائیں گے تاکہ ان پر باہمی اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکے ۔

8:ایران اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول یا ان کی تیاری میں کوئی کوشش نہیں کرے گا۔ امریکا اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی صورتحال کو ایک ایسے طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے گا جو باہمی طور پر طے کیا جائے گا اور یہ عمل پیراگراف 7 میں مذکورہ شیڈول کے مطابق ہوگا۔ کم از کم طریقہ کار کے تحت اس مواد کو اسی مقام پر کم درجے میں لایا جائے گا اور یہ عمل بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہوگا۔دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہیں کہ افزودگی اور ایران کی جوہری ضروریات سے متعلق دیگر باہمی طور پر طے شدہ امور پر بات چیت کی جائے گی جو حتمی معاہدے میں طے ہونے والے ایک تسلی بخش فریم ورک کی بنیاد پر ہوگی۔حتمی معاہدہ اس شق کی تمام دفعات کی توثیق کرے گا ایران جوہری امور کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ وہ ان مسائل کو فوری طور پر مذاکرات میں زیر بحث لا کر باہمی اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

9:حتمی معاہدے تک پہنچنے تک امریکااور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جائے گا۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھے گا جبکہ امریکا نہ تو کوئی نئی پابندیاں عائد کرے گا اور نہ ہی خطے میں اضافی فوجی دستے تعینات کرے گا۔

10:امریکا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی اور پابندیوں کے خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ ایران کے خام تیل ،پٹرولیم مصنوعات اور ان کے مشتقات کی برآمد کیلئے اجازت نامے جاری کرے گا اور اس میں تمام متعلقہ خدمات بھی شامل ہوں گی، جیسے بینکاری لین دین، انشورنس، نقل و حمل وغیرہ۔

11:امریکااس بات کا بھی عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کے منجمد یا محدود شدہ فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر استعمال کیلئے دستیاب بنایا جائے گا۔ امریکا اور ایران ان فنڈز کی بحالی سے متعلق طریقۂ کار پر مذاکرات کے دوران باہمی طور پر اتفاق کریں گے ۔یہ فنڈز خواہ وہ اصل اکاؤنٹ میں ہوں یا کسی منتقلی کے ذریعے حاصل کئے جائیں، مکمل طور پر قابلِ استعمال ہوں گے تاکہ انہیں ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے نامزد کردہ حتمی مستفیدکو ادائیگی کیلئے استعمال کیا جا سکے ۔ امریکا اس کے مطابق تمام ضروری لائسنس اور اجازت نامے جاری کرنے کا عہد کرتا ہے ۔

12:امریکااور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ ایک انتظامی طریقہ کار قائم کیا جائے گا تاکہ اس مفاہمتی یادداشت کے موثر نفاذ اور حتمی معاہدے کی آئندہ تعمیل کی نگرانی کی جا سکے ۔

13:اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اور اس شرط کے ساتھ کہ اس کے پیراگراف 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہو اور یہ اقدامات مسلسل جاری رہیں، امریکا اور ایران حتمی معاہدے کیلئے مذاکرات کا آغاز کریں گے جو صرف دیگر پیراگراف کے حوالے سے ہوں گے ۔

14:حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

ایویان(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی، جس سے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت کو استحکام ملے گا،اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو دنیا شدید معاشی دباؤ کا شکار رہتی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں ،انہوں نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہاکہ اگر مجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا یا ایران نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کیا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی اور بمباری شروع کر سکتا ہے، ان  کے سروں پر بم برسائیں گے ۔ ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ایران نہ جوہری ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی حاصل کر سکے گا۔ جی سیون اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں،سٹاک مارکیٹوں میں تیزی آئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکی صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ معاہدے کے تحت ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ یا دیگر مالی رعایتیں دی جائیں گی ،ایران کو تعمیرِ نو کی مد میں فنڈز صرف اُس صورت میں ملیں گے جب وہ درست اقدامات کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مذاکرات میں خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے اور بات چیت کا محور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سمیت دیگر غیر جوہری معاملات ہوں گے ۔ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی اور خطہ مزید کشیدگی کا شکار رہتا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اچھا شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات میں انہیں زیادہ تحمل اور نرم رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ،دفاع اسرائیل کا حق ہے لیکن اس کیلئے بیروت کی عمارتیں گرانا ضروری نہیں ،لبنان کا معاملہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا۔

نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے پر اختلاف ہے ، اسرائیل حزب اللہ کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا تھا، نیتن یاہو بعض اوقات کچھ جذباتی ہوجاتا ہے لیکن اچھا ساتھی رہا ہے ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیجی ہے ۔ ٹرمپ نے ایران کے گرلزپرائمری سکول پر حملے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ جنگ میں بری چیزیں ہو جاتی ہیں، جنگ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے ،ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہوا تھا اور اتنے عرصے بعد اس بارے میں سوال کرنا غیر معمولی بات ہے ۔

جنگ ہمیشہ تباہ کن ہوتی ہے اور ممکن ہے اس واقعے میں غلطیاں ہوئی ہوں لیکن کسی نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔پنٹا گون اب بھی اس حملے کی تحقیقات کررہاہے ۔ادھر جی سیون ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشترکہ بیان میں اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں میں آزادانہ آمدورفت عالمی تجارت کیلئے ناگزیر ہے ۔ دوسری جانب کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عارضی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سفارت کاری اور مذاکرات کی کامیابی قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بجائے مکالمہ اور مفاہمت ہی پائیدار امن کا راستہ ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں