8697 افراد کے اکائونٹس میں 750 ارب جمع، ریٹرنز میں زیرو آمدن
99 فیصد ہائی ڈیپازٹ والے افراد کی مالی سرگرمیاں ٹیکس ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں ،بجلی بلوں پر 620 ارب سالانہ ٹیکس وصولی 7 فیصد ایئرکنڈیشن استعمال کرنیوالے افراد ریڈار پر ہیں،ایف بی آر افسران اب ٹیکس دہندگان کو ڈائریکٹ نوٹسز نہیں بھیج سکیں گے سسٹم سے ریڈ فلیگ الرٹ درست ثابت ہونے پر اصل ٹیکس کا 70 فیصد ادا کرنا ہوگا:ایف بی آر حکام ، قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد (مدثر علی رانا) ایف بی آر دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں کم از کم 8 ہزار 697 ایسے افراد موجود ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں 750 ارب روپے سے زائد ڈیپازٹس ہیں جبکہ ان کی جانب سے زیرو آمدن ریٹرنز میں ظاہر کی گئی ہے۔ اسی طرح 99 فیصد ہائی ڈیپازٹ والے افراد کی مالی سرگرمیاں ان کے ٹیکس ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں اور تقریباً 80 فیصد ہائی لیول کے پراپرٹی خریدنے والے فائلرز افراد نے انڈر ڈیکلریشن کی ہے ۔دوسری جانب ایف بی آر حکام نے انکشاف کیا کہ بجلی بلوں پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی مد میں 620 ارب روپے سالانہ گھریلو، کمرشل اور صنعتی کنکشنز سے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ بجلی بلوں پر فکسڈ چارجز اس کے علاوہ وصول کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ 8 ہزار 697 افراد کے پاس 750 ارب روپے ڈیپازٹس ہیں جہاں ٹیکس چوری اور لیکجز موجود ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 7 فیصد لوگ ائیرکنڈیشن استعمال کرتے ہیں جو ایف بی آر ریڈار پر ہیں۔ایف بی آر افسران اب ٹیکس دہندگان کو ڈائریکٹ نوٹسز نہیں بھیج سکیں گے ۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور نیا فیس لیس آپریٹنگ ماڈل کی مدد سے ریڈ فلیگ الرٹ ہونے کی صورت میں نوٹسز جاری ہوں گے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اب سسٹم کے ذریعے ٹیکس چوری اور لیکجز کو نہیں چھوڑا جائے گا، تھرڈ پارٹی ڈیٹا کو سسٹم میں انٹیگریٹ کیا جا رہا ہے جہاں ہیومن مداخلت ختم ہو جائے گی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ ٹیکس لیکجز اور چوری میں ریٹیلرز کے خلاف بھی فیس لیس سسٹم کے ذریعے آڈٹ کیا جائے گا۔
آڈٹ سے قبل ٹیکس دہندگان کو تین مواقع دئیے جائیں گے جہاں ریٹرنز فائل کرنے کے لیے ترمیم کا آپشن بھی دیا جائے گا۔ سسٹم سے ریڈ فلیگ الرٹ درست ثابت ہونے پر اصل ٹیکس کا تقریباً 70 فیصد ادا کرنا ہوگا۔ دوسری دفعہ ریڈ فلیگ الرٹ جاری ہوا تو ادائیگی کا حجم بڑھ جائے گا۔ایف بی آر نے نیا فیس لیس اور ڈیٹا پر مبنی آپریٹنگ ماڈل متعارف کرانے کی تجویز دی ہے جس کے تحت آڈٹ، اسیسمنٹ اور فیلڈ آپریشنز کو الگ الگ ونگز کے سپرد کیا جائے گا تاکہ ٹیکس چوری اور افسران و ٹیکس دہندگان کے درمیان ملی بھگت کو کم کیا جا سکے ۔ایف بی آر نے ٹیکس انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے لیے ایک نیا آپریٹنگ ماڈل تیار کیا ہے جس کے تحت آڈٹ، اسیسمنٹ اور فیلڈ آپریشنز کو الگ الگ ونگز کے تحت چلایا جائے گا۔ مجوزہ ماڈل کا بنیادی مقصد ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہ راست رابطے کو کم کرنا، کرپشن اور ملی بھگت کے امکانات ختم کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ایف بی آر کی دستاویز کے مطابق موجودہ نظام میں جغرافیائی بنیادوں پر قائم دفاتر، محدود تخصص اور ایک ہی افسر کے پاس اسیسمنٹ، انفورسمنٹ اور ریکوری کے اختیارات ہونے کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان اور افسران کے درمیان مسلسل براہ راست رابطے سے ملی بھگت کے امکانات پیدا ہوتے ہیں جس سے محصولات کی وصولی متاثر ہوتی ہے ۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس کے پاس موجود مالیاتی اور بینکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں جن کے اثاثوں اور مالی لین دین کا حجم ان کے ظاہر کردہ ٹیکس ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔نئے ماڈل کے تحت ان لینڈ ریونیو سروس کو تین خصوصی ونگز میں تقسیم کیا جائے گا جن میں نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ، نیشنل اسیسمنٹ ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ شامل ہوں گے ۔
آڈٹ اور اسیسمنٹ کی کارروائی زیادہ تر ڈیجیٹل اور فیس لیس انداز میں انجام دی جائے گی جبکہ فیلڈ آپریشنز ونگ ریکوری، انسپیکشن اور زمینی کارروائیوں کا ذمہ دار ہوگا۔اس پورے نظام کو سنٹرل ڈیٹا ہب اور آئی آر آئی ایس 3.0 پلیٹ فارم کی مدد حاصل ہوگی جس کے ذریعے مختلف اداروں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا خودکار انداز میں ٹیکس ریکارڈ سے ملایا جائے گا۔دستاویز کے مطابق ایف بی آر مرحلہ وار سنگل بلائنڈ اور ڈبل بلائنڈ نظام متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ سنگل بلائنڈ ماڈل میں ٹیکس افسر کو ٹیکس دہندہ کی شناخت معلوم نہیں ہوگی جبکہ ڈبل بلائنڈ ماڈل میں نہ افسر اور نہ ہی ٹیکس دہندہ ایک دوسرے کی شناخت جان سکیں گے ۔حکام کے مطابق اس اقدام سے شفافیت میں اضافہ اور غیر ضروری اثر و رسوخ کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت جائیداد، گاڑیوں، بینکنگ ٹرانزیکشنز اور دیگر معاشی سرگرمیوں کا ڈیٹا مسلسل بنیادوں پر اکٹھا کیا جائے گا۔ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے سالانہ آڈٹ کی روایتی پریکٹس کے بجائے مسلسل نگرانی اور رضاکارانہ تعمیل کو فروغ ملے گا۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ نظام کے نفاذ کے لیے متعدد بنیادی اقدامات پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں جن میں ٹیکس کمپلائنس مینجمنٹ سسٹم، ڈیجیٹل لین دین کی نگرانی، رسک بیسڈ آڈٹ اور ہائی نیٹ ورتھ افراد کی نشاندہی شامل ہیں۔ایف بی آر کے مطابق یہ اصلاحات ٹیکس چوری کی روک تھام، محصولات میں اضافے اور ایماندار ٹیکس دہندگان کے لیے نظام کو آسان اور شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ایف بی آر نے اس منصوبے کے لیے اکتوبر 2026 سے پائلٹ مرحلے کا آغاز تجویز کیا ہے جبکہ مارچ 2027 اور اکتوبر 2027 میں مزید مراحل کے ذریعے اس کا دائرہ کار بتدریج وسیع کیا جائے گا۔
حکومت نے حالیہ فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی ہے اور ریٹیلرز پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے گا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اصلاحات کی کامیابی کے بعد پاکستان کا ٹیکس نظام جدید ڈیجیٹل ماڈل کی جانب منتقل ہو جائے گا جس سے نہ صرف ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ انتظامی کارکردگی اور احتساب کا معیار بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ ملی بھگت کم ہونے سے محصولات میں جی ڈی پی کے 4.57 فیصد تک اضافے کی گنجائش موجود ہے ۔ تھرڈ پارٹی ڈیٹا کی سسٹم کے ساتھ انٹیگریشن کے بعد انفرادی سطح کا ڈیٹا صوبوں کو بھی دیا جائے گا جس کے لیے پنجاب اور سندھ کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ساتھ بھی معاہدہ کیا جائے گا۔
فورم کو آگاہ کیا گیا کہ 2022 اور 2024 کے دوران تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیموں میں حکومت اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، اب ریٹیلرز کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جس کا آئندہ مالی سال کے لیے ہدف 20 لاکھ تاجروں کو رجسٹرڈ کرنا رکھا گیا ہے ۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ بجلی بلوں پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی مد میں 620 ارب روپے سالانہ ٹیکسز اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ کمرشل بجلی کنکشنز پر مختلف سلیبز میں 3 ہزار روپے سے لے کر ساڑھے تین لاکھ روپے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ۔
حکام نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے پوائنٹ آف سیلز میں رجسٹرڈ ٹیئر ون ریٹیلرز کا ہدف 1 لاکھ رکھا گیا ہے جس کے بعد بھی مزید 50 ہزار ٹیئر ون ریٹیلرز ایف بی آر ریڈار سے باہر ہوں گے ۔چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف فکسڈ ٹیکس اسکیم پر کمیٹی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ آڈٹ سے استثنیٰ دینا اور فکسڈ ٹیکس دینا ایمنسٹی ہے ، جس پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ یہ ایمنسٹی نہیں ہے ۔ ایف بی آر حکام نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ایمنسٹی نہیں دی جا سکتی۔سالانہ مجموعی طور پر 75 لاکھ ریٹرنز میں سے محض 30 ہزار کے لیے آڈٹ کپیسٹی موجود ہے ۔ ایف بی آر کا نیا سسٹم متعارف ہونے سے آڈٹ کپیسٹی بڑھے گی اور ریٹیلرز کی ملکی و غیرملکی ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا موجود ہے جس کو چیک کیا جا سکے گا۔