تدریسی ہسپتالوں میں آپریشنز کیلئے طویل انتظار، مریضوں کو مشکلات
مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد متعدد مریضوں کو کئی ماہ بعد کا وقت دینے کا انکشاف نجی ہسپتال جا نیکا مشورہ ،سرجری مقررہ تاریخ پر کی جائے ، ترجمان سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر
لاہور(سید سجاد کاظمی سے )لاہور کے پانچ بڑے تدریسی ہسپتالوں میں سرجری کے منتظر مریضوں کو آپریشن کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے جبکہ مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد متعدد مریضوں کو دوبارہ کئی ماہ بعد کا وقت دینے کے انکشافات سامنے آئے ہیں،مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے شکایت کی ہے کہ آپریشن کا وقت ملنے کے باوجود انہیں سرجری کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی اور مایوس ہو کر گھروں کو واپس جانا پڑتا ہے ،ذرائع کے مطابق تدریسی ہسپتالوں میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے رش، بیڈز کی کمی اور انتظامی مسائل کے باعث آپریشن شیڈول شدید متاثر ہو رہا ہے، بعض مریضوں کا کہنا ہے کہ انہیں چھ ماہ بعد سرجری کی تاریخ دی گئی، تاہم مقررہ وقت آنے پر آپریشن نہ ہو سکا اور مزید کئی ماہ انتظار کرنے کا کہا گیا۔
مریضوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض ہسپتالوں میں انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے نجی ہسپتالوں سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن میں غیر معمولی تاخیر کے باعث مریضوں کی بیماری میں شدت اور پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، بعض سنگین کیسز میں مریضوں کی جان کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں،اس صورتحال کے باعث مریض اور ان کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں،دوسری جانب محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ جس مریض کو آپریشن کا وقت دیا گیا ہے، اس کی سرجری مقررہ تاریخ پر ہی ہونی چاہیے ، انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز اور ہسپتال انتظامیہ آپریشن شیڈول کے معاملے کو سنجیدگی سے لیں تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ترجمان کے مطابق محکمہ صحت اس معاملے کی نگرانی کر رہا ہے اور مریضوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔