قومی اسمبلی:دفاع،تعلیم،صحت سمیت42کھرب سے زائد کے مطالبات زر منظور،کٹوتی تحار یک مسترد

قومی  اسمبلی:دفاع،تعلیم،صحت  سمیت42کھرب  سے  زائد  کے  مطالبات  زر  منظور،کٹوتی  تحار یک  مسترد

ایچ ای سی 66 ارب ، پوسٹ آفس 25 ارب ، دفاعی خدمات کیلئے 3 ہزار ارب سے زائد کے مطالبات زر شامل، خزانہ، داخلہ سمیت 7 وزارتوں کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحریکیں پیش ہوئیں پی ایم ہاؤس کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا:طارق فضل ،مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید نہیں ہونی چاہیے :علی محمد ،،اقتدار میں ہوں تو پولیس ہمارے آگے ،باہر ہوں توپیچھے ہوتی ہے :وزیر دفاع

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ،نامہ نگار،اے پی پی )قومی اسمبلی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے نئے مالی سال کے 4 ہزار 232 ارب روپے سے زائد کے 89 مطالبات زر کی منظوری دیدی۔ خزانہ، داخلہ سمیت 7 مختلف وزارتوں کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئی ہیں جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات ، وزارت خارجہ، دفاع، صحت، تعلیم، قانون و انصاف سمیت 25 وزارتوں پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں پیش نہیں کی گئیں۔ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کئے گئے ان مطالبات زر میں سے اٹامک انرجی شعبہ کیلئے 22 ارب 57 کروڑ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 2 ارب 35 کروڑ 77 لاکھ ، انٹیلی جنس بیورو ڈویژن کیلئے 22 ارب 96 کروڑ، موسمیاتی تبدیلی و انوائرنمنٹل کوآرڈی نیشن کیلئے ایک ارب 31 کروڑ 54 لاکھ، کامرس ڈویژن کیلئے 27 ارب 90 کروڑ 89 لاکھ، پاکستان پوسٹ آفس کیلئے 25 ارب 53 کروڑ 67 لاکھ، وزارت دفاع کیلئے 17 ارب 10 کروڑ 7 لاکھ، دفاعی خدمات کیلئے 3 ہزار ارب ، دفاعی پیداوار ڈویژن ایک ارب 14 کروڑ، ایئر پورٹ سکیورٹی فورس 21 ارب 65 کروڑ، کنٹونمنٹس و گیریژن 17 ارب 58 کروڑ، اقتصادی امور ڈویژن 98 کروڑ 53 لاکھ، اقتصادی امور ڈویژن 14 ارب 2 کروڑ 60 لاکھ، منصوبہ بندی و ترقی 9 ارب 58 کروڑ 62لاکھ، نجکاری ڈویژن ایک ارب 32 کروڑ 99 لاکھ، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت 42 ارب 74 کروڑ 83 لاکھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن 66 ارب 43 کروڑ 20 لاکھ ، نیوٹیک ایک ارب 9 کروڑ 23 لاکھ، قومی ورثہ و ثقافت 2 ارب 60 کروڑ 46 لاکھ، قومی رحم اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی 11 کروڑ 57 لاکھ، خارجہ امور 5 ارب ایک کروڑ 24 لاکھ، اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی 3 ارب 73 کروڑ 54 لاکھ، وزارت انسانی حقوق ایک ارب 83 کروڑ 16 لاکھ، قومی کمیشن برائے حقوق اطفال 9 کروڑ 77 لاکھ، قومی کمیشن برائے سٹیٹس آف وومن 13 کروڑ 19 لاکھ، قانون و انصاف 11 ارب 12 کروڑ 33 لاکھ ۔۔۔

قومی احتساب بیورو 7 ارب 73 کروڑ 97 لاکھ، ضلعی عدلیہ ایک ارب 84 کروڑ 75 لاکھ، فیڈرل شریعت کورٹ ایک ارب 12 کروڑ 71 لاکھ، اسلامی نظریاتی کونسل 32 کروڑ 23 لاکھ، اطلاعات و نشریات 11 ارب ایک کروڑ 45 لاکھ، اسی ڈویژن کے متفرق اخراجات کیلئے 15 ارب 89 کروڑ 75 لاکھ، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن 22 ارب 49 کروڑ 54 لاکھ، قومی صحت و خدمات کیلئے 37 ارب 22 کروڑ 17 لاکھ، میری ٹائم افیئرز 2 ارب 34 کروڑ 37 لاکھ، قومی اسمبلی 9 ارب 3 کروڑ 57 لاکھ، سینیٹ 3 ارب 21 کروڑ 72 لاکھ، پارلیمانی امور ایک ارب 20 کروڑ 88 لاکھ، مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی 2 ارب 9 کروڑ 14 لاکھ، ریلوے ڈویژن 7 کروڑ 4 لاکھ ، سائنس و ٹیکنالوجی 15 ارب 97 کروڑ، آبی وسائل 4 ارب 24 کروڑ 14 لاکھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈویلپمنٹ کیلئے 46 ارب، آئی ٹی و ٹیلی کام ڈویلپمنٹ کیلئے 19 ارب 58 کروڑ، واٹر ریسورسز کیلئے 55 ارب 25 کروڑ 10 لاکھ، منصوبہ بندی و ترقیات ڈویژن کیلئے 27 ارب 62 کروڑ 63 لاکھ، ریلویز کیلئے 40 ارب 65 کروڑ 78 لاکھ ، مواصلات کیلئے 59 ارب 25 کروڑ 50 لاکھ اور واٹر ریسورسز کیلئے 47 ارب 83 کروڑ 53 لاکھ روپے سے زائد کے مطالبات زر شامل تھے ۔ جن کی ایوان نے منظوری دی۔ قومی اسمبلی نے کابینہ سیکرٹریٹ کے 96.86 ارب روپے کے 18 مطالبات زر کی منظوری دیدی، ایوان نے اپوزیشن کی کٹوتی کی 90 تحاریک کو مسترد کر دیا۔ کٹوتی کی تحاریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے کہاکہ پی ایم ہاؤس کے حوالہ سے ایوان میں حقائق کے منافی اعداد و شمار پیش کئے گئے ، پی ایم ہاؤس کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے بچت کے حوالہ سے جامع اقدامات کئے ہیں۔

توانائی ڈویژن کے 6 کھرب 61 ارب روپے سے زائد کے 6 مطالباتِ زر کی منظوری دی گئی ۔اپوزیشن کی کٹوتی کی 116 تحاریک مسترد کردی گئیں۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عاطف خان نے حکومت سے سوال کیا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ کب تک حل ہوگا اور آئی پی پیز سے کب جان چھوٹے گی۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے ٹیکس دہندگان پر سے 587 ارب روپے کا بوجھ کم کیا ہے اور گردشی قرضے میں نمایاں کمی لائی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پیش کردہ اعداد و شمار غلط ثابت ہوئے تو وہ اسی وقت استعفیٰ دے دیں گے ۔بجلی چوری آج بھی ہو رہی ہے اور پہلے بھی ہوتی رہی ہے ۔ قومی اسمبلی نے وزارت خزانہ کے 4 ہزار 282 ارب روپے سے زائد کے 12 مطالبات زر کی منظوری دیدی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی کٹوتی کی 100 تحریکیں مسترد کر دیں جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر میں کی جانے والی اصلاحات سے آئندہ مالی سال کے ٹیکس اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، شام کے بعد وزیر کی گاڑی پر جھنڈا نہیں ہوناچاہئے ہم اقتدار میں ہوتے ہیں تو پولیس ہمارے آگے اقتدار میں نہیں ہوتے تو ہمارے پیچھے ہوتی ہے ویگو ڈالے سڑکوں پر بھی بین کرنے چاہئیں۔

سپیکر ایاز صادق نے ارکان کو ہدایت کی کہ بغیر پاس کسی بھی شخص کو پارلیمنٹ ہاؤ س میں داخل نہ ہونے دیا جائے ،کیوں کہ سکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں ۔سپیکر نے کہاکہ اراکین میرے ساتھ بیٹھ کر کوڈآف کنڈکٹ طے کریں، حکومت اور اپوزیشن ملکر ضابطہ اخلاق بنا لیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ارکان کے مہمانوں کی تعداد محدود کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انھوں نے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ویگو ڈالا ایک ولگر کلچر بن چکا ہے اور جو اس کے سٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے اس کے رویے میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے ۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایوان کے تقدس پر کوئی سمجھوتا نہ کریں،مسلح افواج،اعلٰی عدلیہ ججز کے خلاف کسی کو بات نہ کرنے دیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایوان میں ہماری تقاریر بند کردی جاتی ہیں، بیشک آپ بعد میں تقاریرچلائیں لیکن چلائیں۔اس پر سپیکر نے کہا کہ مجھے نیشنل سکیورٹی سے متعلق معاملات کو دیکھنا ہوتاہے ، بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ ہم نیشنل سکیورٹی کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے ۔ پی ٹی آئی کے رکن علی محمد خان نے کہا کہ مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید نہیں ہونی چاہیے ۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن رہنماوں کی تقاریر نہیں دکھائی جاتیں، یہ پابندی ختم کی جائے ۔ علی محمد خان کی بات پر جواب دیتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں، کوئی پابندی نہیں ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں