پائیدار حل تک پہنچنے کیلئے ایران امریکا مذاکرات کو جلد مکمل کیا جائے:چار ملکی وزرائے خارجہ
قاہرہ اجلاس ،پاکستان کے سفارتی کردار کا عالمی اعتراف، مصر، سعودی عرب، ترکیہ کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم وعدوں پر مکمل عملدرآمد ضروری ،فلسطینی مسئلے کی مرکزی حیثیت کا اعادہ،اعلامیہ، امریکا ایران کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا، ڈار
اسلام آباد (الماس حیدرنقوی، دنیا نیوز ) پاکستان ، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے چو تھے مشاورتی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ، اعلامیہ میں امریکہ ،ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو سراہا گیا ، اعلامیہ میں زور دیا گیا کہ ایران، امریکا اگلے مرحلے کے مذاکرات کو جلد اور کامیابی سے مکمل کیا جائے تاکہ ایک پائیدار، قابلِ تصدیق اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل تک پہنچا جا سکے ،اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خطے کے ممالک کے تحفظات، خصوصاً خلیجی عرب ریاستوں اور خطئہ لیوانٹ کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے خدشات کو مدنظر رکھا جائے ، تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط اور طویل المدتی علاقائی استحکام کو فروغ دیا جا سکے ۔وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لئے فلسطینی مسئلے کی مرکزی حیثیت کا اعادہ کیا۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مصر کی دعوت پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا قاہرہ میں اجلاس ہوا ۔وزرائے خارجہ نے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے خطے کے مستقبل کے حوالے سے پیش کئے گئے ویژن کو سراہا، جسے گروپ کی ان کوششوں کے لئے رہنما قرار دیا گیا جو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے فروغ کے لئے جاری ہیں۔اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال اور اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ چاروں ممالک کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی کا تسلسل مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لئے انتہائی اہم ہے ۔وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے 18 جون 2026 کو امریکہ ،ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو سراہا۔
انہوں نے اس پیش رفت کو کشیدگی میں کمی کی جانب مثبت قدم قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام اس تنازع کے خاتمے کی سمت اہم پیش رفت ہے جس نے نہ صرف علاقائی سلامتی و استحکام بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں، بحری راستوں، سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دئیے تھے ۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے ۔انہوں نے پاکستان کی اس تاریخی پیش رفت کے حصول میں کلیدی اور مؤثر کردار کی تعریف کی، جبکہ ریاستِ قطر کی معاونت کو بھی سراہا ،وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ مثبت پیش رفت کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اگلے مرحلے کے مذاکرات کو جلد اور کامیابی سے مکمل کیا جائے تاکہ ایک پائیدار، قابلِ تصدیق اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل تک پہنچا جا سکے ،قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ریجنل فور کے وزرائے خارجہ کے چوتھے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم پیش ر فت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے مکالمے ، سفارت کاری اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ،اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی صورتحال R-4 پلیٹ فارم کے تحت تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز کے حل کے لئے مذاکرات، سفارت کاری اور علاقائی ملکیت کے اصول کو مرکزی حیثیت دی جائے گی ، بعد ازاں العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مذاکرات میں کوئی بھی امریکا اور ایران کی نیک نیتی پر شک نہیں کر سکتا۔ایران پر عائد پابندیوں کا معاملہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں زیرِ بحث آئے گا اور انہیں یقین ہے کہ امریکا اور ایران بالآخر ایک حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے ،سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ نے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ہے ، انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں امید ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی، آئندہ 60 دن کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ متوقع نہیں ۔