قومی اسمبلی میں ’’گھڑی چور‘‘ اور’’جعلی مینڈیٹ‘‘ کے نعرے خواجہ آصف کے ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد (سید قیصر شاہ)قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث مکمل ، منظوری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان نوک جھوک، تنقید اور تلخ جملوں کا تباد لہ جاری رہا۔
ایوان میں ’’گھڑی چور‘‘ اور’’جعلی مینڈیٹ‘‘ کے نعرے بھی گونجتے رہے ۔ ایوان نے نئے مالی سال کے لیے مطالباتِ زر کی منظوری دیتے ہوئے اپوزیشن کی کٹوتی کی 90 تحاریک مسترد کر دیں۔اپوزیشن اراکین اپنی تقاریر کے دوران مائیک بند کیے جانے اور کارروائی براہِ راست نشر نہ ہونے پر سراپا احتجاج بھی رہے ۔ دونوں جانب سے اپنی اپنی حکومتوں کے ادوار کو عوام دوست اور بہترین قرار دیا جاتا رہا جبکہ ایک دوسرے پر شدید تنقید بھی کی گئی۔مطالباتِ زر اور کٹوتی کی تحاریک پیش ہونے کے وقت ایوان میں حکومتی اراکین کی حاضری معمول سے زیادہ جبکہ اپوزیشن کی نسبتاً کم تھی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس ریمارکس پر ایوان میں بھرپور ڈیسک بجائے گئے جب انہوں نے کہا کہ ‘‘سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم اقتدار میں ہوتے ہیں تو پولیس ہمارے آگے ہوتی ہے اور جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو پولیس ہمارے پیچھے ’’۔ اس جملے پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے ۔