فنانس بل کا حتمی مسودہ تیار ،آج قومی اسمبلی سے منظوری
ٹیکس اصلاحات، الیکٹرانک انوائسنگ، فیس لیس سسٹم،جدید نگرانی کے اقدامات شامل تنخواہ دار طبقے ، جائیداد، کاروبار اور درآمدی گاڑیوں پر نئے ٹیکس ، بل یکم جولائی سے نافذ
اسلام آباد (مدثر علی رانا)وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کے بعد فنانس بل 2026 کا حتمی مسودہ تیار کر لیا جو آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے یکم جولائی سے نافذ العمل ہوگا۔ ذرائع کے مطابق فنانس بل آج قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔بل میں ٹیکس نظام میں وسیع اصلاحات، محصولات میں اضافے اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات سے معیشت کی دستاویز بندی، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ریونیو میں اضافہ ممکن ہوگا۔فنانس بل کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں موٹر گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کے ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی ہے ۔ 1000 سی سی تک گاڑیوں پر 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ 1001 سی سی سے زائد گاڑیوں پر انوائس ویلیو کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ موٹر کیبز، پبلک سروس اور کمرشل گاڑیوں کے لیے بھی نئے نرخ تجویز کیے گئے ہیں۔بل میں پہلی بار الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم کو قانونی حیثیت دی گئی ہے جس کے تحت کاروباری لین دین کی رسیدیں ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ ہوں گی۔ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، جعلی انوائسز کی روک تھام اور ریئل ٹائم نگرانی ممکن ہوگی۔اسی طرح نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام اور فیس لیس ایڈجیوڈیکیشن سسٹم کی منظوری بھی تجویز کی گئی جس کے تحت کسٹمز اور ٹیکس مقدمات کی سماعت ورچوئل طریقے سے ہوگی۔
پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے صنعتی پیداوار اور فروخت کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی تاکہ ٹیکس چوری روکی جا سکے ۔بل میں 20 کروڑ روپے سے زائد سالانہ کاروبار رکھنے والے اداروں کو ٹیکس نیٹ میں مؤثر طریقے سے شامل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور مالی جرائم کے خلاف سخت اقدامات کے تحت خصوصی عدالتوں کو اثاثے منجمد کرنے کا اختیار دینے کی تجویز دی گئی ہے تاہم تیسرے فریق کو مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔فنانس بل میں سٹیل سیکٹر کے لیے بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ پیداوار اور فروخت کی بہتر نگرانی ہو سکے ۔بل کے مطابق تنخواہ دار طبقے ، جائیداد کی خرید و فروخت اور ڈیجیٹل آمدن پر انکم ٹیکس کی نئی شرحیں نافذ کی جائیں گی۔ سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن ٹیکس سے مستثنٰی ہوگی، 6 سے 12 لاکھ پر 1 فیصد، 12 سے 22 لاکھ پر 6 ہزار روپے فکسڈ کے ساتھ 11 فیصد، 22 سے 32 لاکھ پر 23 فیصد، 32 سے 41 لاکھ پر 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ پر 29 فیصد، 56 سے 70 لاکھ پر 32 فیصد جبکہ 70 لاکھ سے زائد آمدن پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔بینکنگ اور فرٹیلائزر سیکٹر کی 150 ملین روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد ٹیکس جبکہ دیگر کارپوریٹ اداروں پر 8 فیصد ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔
جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جس کے تحت فروخت کنندہ سے 2.75 فیصد اور خریدار سے 1.25 فیصد ٹیکس وصول ہوگا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ بعض فلاحی اور سرکاری اداروں کو ٹیکس میں خصوصی حیثیت دینے کی بھی تجویز شامل ہے ۔گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی گئی ہے ۔ 2000 سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 86 فیصد جبکہ 3000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے ۔ 1800 سی سی تک گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔الیکٹرک گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی جبکہ ہائبرڈ اور لگژری گاڑیوں پر بھی نئی ڈیوٹیز اور ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی منظوری آج متوقع ہے ۔ حکومت کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا مقصد بڑی اور لگژری گاڑیوں کو سستا کرنا نہیں۔فنانس بل 2026 کی منظوری آج قومی اسمبلی سے متوقع ہے۔