پنجاب اسمبلی :بجٹ پر بحث،حکومت اپوزیشن ارکان میں تلخی
غلام سرور کے مذہبی حوالے پرکشیدگی ،عظمی ٰ بخاری کا احتجاج،الفاظ حذف وزیراعلیٰ کی کارکردگی، ترقیاتی منصولے ، بجٹ کو عوام دوست :حکومتی ارکان
لاہور (سیاسی نمائندہ) پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے چوتھے روز حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا،اپوزیشن نے صحت، زراعت، مہنگائی، امن و امان اور سیاسی حالات کو موضوع بنایا جبکہ حکومتی ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ کو عوام دوست قرار دیا،اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو آپریشن کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے ، چلڈرن ہسپتال اور الائیڈ ہسپتال میں سی ٹی سکین مشینیں خراب پڑی ہیں ، صحت اور انصاف کے نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ،اپوزیشن ارکان طیب راشد، چو دھری نعیم شفیق، امین اللہ خان اور حسن ملک نے اپنی تقاریر میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی، کسانوں کے مسائل، گندم پالیسی، بے روزگاری اور ترقیاتی فنڈز کی غیر مساوی تقسیم کے معاملات اٹھائے ، غلام سرور اور سردار محمد علی نے کسانوں، انصاف کی فراہمی اور سیاسی مقدمات کے معاملات پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
غلام سرور کی جانب سے مذہبی حوالے دیے جانے پر ایوان میں کشیدگی پیدا ہوگئی جس پر وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے شدید احتجاج کیا جبکہ ڈپٹی سپیکر نے متنازع الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت دی،وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ مریم نواز حکومت نے تعلیم، امن و امان اور ترقیاتی شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے ،ڈی جی خان یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد تین ہزار سے بڑھ کر دس ہزار ہو چکی ہے ، جنوبی پنجاب کے طلبہ کو 33 ہزار سے زائد اسکالرشپس، 10 ہزار لیپ ٹاپ اور 8 ہزار سے زائد الیکٹرک بائیکس فراہم کی گئی ہیں ،حکومتی ارکان رانا شہریار خان، رانا طاہر اقبال، چوہدری افتخار چھچھر، اسامہ فضل چوہدری، شعیب صدیقی اور ثاقب چدھڑ نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر خزانہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ بجٹ پر بحث آج بھی میں بھی جاری رہے گی۔