قومی اسمبلی میں تنقید، طنز، شکوے ،سیاسی گرما گرمی برقرار

قومی اسمبلی میں تنقید، طنز، شکوے ،سیاسی گرما گرمی برقرار

ویگو ڈالہ معاملے پر دوسرے روز بھی ماحول گرم رہا،فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پی ٹی آئی ارکان کی تقاریر، مائیک اور نشریات پر اعتراضات، سپیکر مداخلت کرتے رہے

اسلام آباد (سید قیصر شاہ) قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان اجلاس کے دوران اپنی نشستوں پر باہمی گفتگو میں مصروف رہے جبکہ ارکان کی تقاریر اور تجاویز پر کم توجہ دی گئی تاہم ایک دوسرے پر تنقید اور طنز کا سلسلہ جاری رہا۔ویگو ڈالہ کے معاملے پر دوسرے روز بھی ایوان کا ماحول گرم رہا۔ پی ٹی آئی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا کہ کہیں خواجہ آصف کی چھٹی ہی نہ ہو جائے ۔داخلہ ڈویژن کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران مختلف تجاویز پیش کی گئیں جبکہ ارکان نے دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کارروائیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔

بحث کے دوران بعض ارکان نے شکایت کی کہ پارلیمنٹ لاجز میں گاڑیاں تیز رفتاری سے چلائی جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی ارکان نے سپیکر سے شکوہ کیا کہ ان کی تقاریر کے دوران مائیک بند کر دئیے جاتے ہیں اور انہیں براہِ راست نشر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی تقاریر بھی حکومتی ارکان کی طرح نشر کی جائیں۔پی ٹی آئی ارکان نے بحث کے دوران بارہا سیاسی موضوعات اٹھائے جس پر سپیکر انہیں مطالباتِ زر کی بحث تک محدود رہنے کی ہدایت دیتے رہے تاہم وہ اپنے دیرینہ مطالبات بھی دہراتے رہے ۔ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی نوک جھونک اور تنقید کا سلسلہ جاری رہا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں